افکار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خلافت و ملوکیت کا فرق
اسلام جس بنیاد پر دُنیا میں اپنی ریاست قائم کرتا ہے وہ یہ ہے کہ شریعت سب پر بالا ہے۔ حکومت اور حکمران، راعی اور رعیّت، بڑے اور چھوٹے، عوام اور خواص، سب اُس کے تابع ہیں۔ کوئی اُس سے آزاد یا مستثنیٰ نہیں اور کسی کو اس سے ہٹ کر کام کرنے کا حق نہیں۔ دوست ہو یا دشمن، حربی کافر ہو یا معاہد، مسلم رعیّت ہو یا ذمّی، مسلمان وفادار ہو یا باغی یا برسرِ جنگ، غرض جو بھی ہو شریعت میں اُس سے برتائو کرنے کا ایک طریقہ مقرر ہے، جس سے کسی حال میں تجاوز نہیں کیا جاسکتا۔
خلافتِ راشدہ اپنے پورے دور میں اِس قاعدے کی سختی کے ساتھ پابند رہی، حتیٰ کہ حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ نے انتہائی نازک اور سخت اشتعال انگیز حالات میں بھی حدودِ شرع سے قدم باہر نہ رکھا۔ ان راست رو خلفاء کی حکومت کا امتیازی وصف یہ تھا کہ وہ ایک حدود آشنا حکومت تھی، نہ کہ مطلق العنان حکومت۔
مگر جب ملوکیت کا دور آیا تو بادشاہوں نے اپنے مفاد، اپنی سیاسی اغراض، اور خصوصاً اپنی حکومت کے قیام و بقا کے معاملے میں شریعت کی عائد کی ہوئی کسی پابندی کو توڑ ڈالنے اور اس کی باندھی ہوئی کسی حد کو پھاند جانے میں تامّل نہ کیا۔ اگرچہ ان کے عہد میں بھی مملکت کا قانون اسلامی قانون ہی رہا۔ کتاب اللہ و سنت ِ رسولؐ اللہ کی آئینی حیثیت کا اُن میں سے کسی نے کبھی انکار نہیں کیا۔ عدالتیں اِسی قانون پر فیصلے کرتی تھیں، اور عام حالات میں سارے معاملات، شرعی احکام ہی کے مطابق انجام دیے جاتے تھے۔ لیکن ان بادشاہوں کی سیاست دین کی تابع نہ تھی۔ اُس کے تقاضے وہ ہر جائز وناجائز طریقے سے پورے کرتے تھے، اور اس معاملے میں حلال و حرام کی کوئی تمیز روا نہ رکھتے تھے (خلافت اور ملوکیت کا فرق، ترجمان القرآن، ستمبر 1965)۔
٭—٭—٭
سانحۂ مسجدِ اقصیٰ
اصل مسئلہ محض مسجد اقصیٰ کی حفاظت کا نہیں ہے۔ مسجد اقصیٰ محفوظ نہیں ہو سکتی جب تک بیت المقدس یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ اور خود بیت المقدس بھی محفوظ نہیں ہو سکتا جب تک یہودیوں کے غاصبانہ تسلط سے فلسطین پر یہودی قابض ہیں۔ اس لیے اصل مسئلہ تسلط سے آزاد کرانے کا ہے۔ اور اس کا سیدھا اور صاف حل یہ ہے کہ اعلان بالفور سے پہلے جو یہودی فلسطین میں آباد تھے صرف وہی وہاں رہنے کا حق رکھتے ہیں، باقی جتنے یہودی 1917ء کے بعد سے اب تک وہاں باہر سے آئے اور لائے گئے ہیں انہیں واپس جانا چاہیے۔ ان لوگوں نے سازش اور جبر ظلم کے ذریعے سے ایک دوسری قوم کے وطن کو زبردستی اپنا قومی وطن بنایا، پھر اسے قومی ریاست میں تبدیل کیا، اور اس کے بعد توسیع کے جارحانہ منصوبے بنا کر آس پاس کے علاقوں پر قبضہ کرنے کا نہ صرف عملاً ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر دیا، بلکہ اپنی پارلیمنٹ کی پیشانی پر علانیہ یہ لکھ دیا کہ کس کس ملک کو وہ اپنی اس جارحیت کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں (سانحۂ مسجدِ اقصیٰ)۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور اس
پڑھیں:
چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
ٹویوٹا، ہونڈا اور سوزوکی کے بعد چیری(Cherry) نے بھی ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں حالیہ اضافے کے بعد پاکستان میں اپنے تمام ماڈلز کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔
تاہم کمپنی نے فوری طور پر مکمل اضافہ صارفین پر منتقل نہیں کیا اور محدود مدت کی پروموشنل آفر کے تحت جزوی طور پر بڑھی ہوئی قیمتیں متعارف کرائی ہیں۔
چیری ٹِگو 7 پی ایچ ای وی کی سابقہ قیمت 94 لاکھ 99 ہزار روپے تھی، جسے بڑھا کر پروموشنل قیمت 99 لاکھ 99 ہزار روپے کردی گئی ہے، جبکہ آفر ختم ہونے کے بعد اس کی اصل قیمت 1 کروڑ 9 لاکھ 49 ہزار روپے ہوگی۔
چیری ٹِگو 8 پی ایچ ای وی کی قیمت 1 کروڑ 12 لاکھ 99 ہزار روپے سے بڑھا کر پروموشنل قیمت 1 کروڑ 14 لاکھ 99 ہزار روپے کردی گئی ہے، جبکہ آفر کے بعد گاڑی کی اصل قیمت 1 کروڑ 29 لاکھ 99 ہزار روپے ہوگی۔
مزیدپڑھیں:اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
اسی طرح ٹِگو 9 پی ایچ ای وی کی سابقہ قیمت 1 کروڑ 36 لاکھ 94 ہزار روپے تھی، جس کی پروموشنل قیمت 1 کروڑ 42 لاکھ 99 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ آفر ختم ہونے کے بعد گاڑی کی اصل قیمت 1 کروڑ 57 لاکھ 49 ہزار روپے ہوگی۔
کمپنی کے مطابق پروموشنل قیمتیں محدود مدت کے لیے ہیں اور 31 جولائی تک دستیاب ہوں گی، جبکہ اسٹاک ختم ہونے تک موجودہ صارفین بھی اس آفر سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
چیری کی جانب سے نئی قیمتوں کو محدود مدت کی ڈسکاؤنٹ آفر کے طور پر پیش کیا گیا ہے، تاہم رعایت کے باوجود تینوں گاڑیاں اپنی سابقہ قیمتوں کے مقابلے میں مہنگی ہوگئی ہیں۔