راولپنڈی: بینک سے نکلنے والے شہریوں کو لوٹنے والا خطرناک گروہ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
راولپنڈی:
ریس کورس پولیس نے بینک سے نکلنے والے شہریوں کو لوٹنے والا چار رکنی خطرناک گینگ گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے شہریوں سے چھینے گئے 75 لاکھ روپے اور 20 موٹر سائیکلیں برآمد کرلی گئیں، گینگ کے ارکان نے دوران واردات شہری کو فائرنگ کر کے شدید زخمی بھی کیا تھا.
گینگ کی گرفتاری کیلئے ایس پی پوٹھوہار کی سربراہی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں، پولیس نے تمام ٹیکنیکل و ہیومن انٹیلی جنس ذرائع بروئے کار لاکر ملزمان کو گرفتار کیا۔
ایس پی پوٹھوہار طلحہ ولی کا کہنا ہے کہ ملزمان نے دوران تفتیش موٹر سائیکل چھیننے اور چوری کرنے کی متعدد وارداتوں کا بھی انکشاف کیا، زیر حراست ملزمان کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔
ایس پی پوٹھوہار نے برآمد شدہ رقم اور موٹر سائیکل اصل مالکان کے حوالے کردیے، شہریوں نے بہترین کارکردگی پر ایس پی پوٹھوہار اور راولپنڈی پولیس کا شکریہ ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔