صدر زرداری کا دورہ؛ پاکستان اور چین کے درمیان 3 اہم شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
ویب ڈیسک: اُرومچی میں صدر مملکت آصف علی زرداری کی موجودگی میں پاکستان اور چین کے درمیان 3 اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ان معاہدوں کا تعلق لائیو اسٹاک انڈسٹری میں جدت، پاکستان میں جدید ٹیکسٹائل انڈسٹریل پارک کے قیام اور فائر ٹرکس و ایمرجنسی آلات کی فراہمی سے ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے اس موقع پر کہا کہ یہ یادداشتیں پاکستان میں خوراک کے تحفظ، صنعتی ترقی، برآمدات کے فروغ اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ لائیو اسٹاک سیکٹر کی بہتری دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی جب کہ ٹیکسٹائل پارک کا قیام برآمدات بڑھانے اور صنعتی شعبے کو مزید فعال کرنے میں مددگار ہوگا۔
سرگودھا : الیکٹرک بس سروس کا آغاز، مریم نواز کا عوام کیلئے مفت سفری سہولت کا اعلان
صدر مملکت نے کہا کہ چین کی جانب سے جدید فائر ٹرکس اور ایمرجنسی آلات کی فراہمی عوامی تحفظ کو یقینی بنانے اور ریسکیو آپریشنز کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس موقع پر سینیٹر سلیم مانڈوی والا، پاکستان کے سفیر برائے چین اور چین کے سفیر برائے پاکستان بھی موجود تھے۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا