پیرس(نیوز ڈیسک) فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون اور ان کی اہلیہ بریجیت میکرون نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی عدالت میں ایک ہتکِ عزت کے مقدمے میں سائنسی شواہد پیش کریں گے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ خاتونِ اوّل عورت ہیں۔

بی بی سی کے پوڈکاسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں میکرون کے وکیل ٹام کلیئر نے کہا کہ یہ شواہد فوٹوگرافک اور سائنسی نوعیت کے ہوں گے، جو امریکی دائیں بازو کی سیاسی تجزیہ کار اور میزبان کینڈیس اوونز کے دعوؤں کو جھوٹا ثابت کریں گے۔

وکیل نے کہا، ’خاتونِ اوّل ان الزامات سے انتہائی رنجیدہ ہیں اور یہ صدر میکرون کے لیے بھی ایک غیر ضروری بوجھ ہے۔ جب آپ کے خاندان پر حملہ ہوتا ہے تو یہ آپ کو متاثر کرتا ہے، چاہے آپ کسی بھی حیثیت میں ہوں، صدر بھی اس سے مبرا نہیں ہیں۔‘

یاد رہے کہ اوونز نے دعویٰ کیا تھا کہ بریجیت میکرون پیدائشی طور پر مرد تھیں اور بعد ازاں چوری شدہ شناخت کے تحت عورت میں تبدیل ہوئیں۔

یہ مقدمہ امریکی ریاست ڈیلاویئر کی عدالت میں دائر کیا گیا جس میں 22 الزامات شامل ہیں۔ درخواست کے مطابق کینڈیس اوونز نے اپنے پوڈکاسٹ میں 8 اقساط پر مشتمل ایک سیریز میں ناصرف بریجیت کی جنس پر سوال اٹھایا تھا بلکہ یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ میکرون اور بریجیت آپس میں رشتہ دار ہیں اور اس طرح غیر اخلاقی رشتے میں ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ فرانسیسی خاتونِ اوّل کو ایسی جھوٹی خبروں کا سامنا ہے، 2021ء میں دو فرانسیسی خواتین نے یوٹیوب پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بریجیت دراصل جان مشیل ٹروگنو نامی شخص تھیں، جو دراصل ان کے بھائی ہیں۔

میکرون نے ان دونوں خواتین کے خلاف بھی مقدمہ درج کر رکھا ہے، جو اس وقت فرانس کی اعلیٰ ترین عدالت میں زیرِ سماعت ہے، کیونکہ پیرس کورٹ آف اپیل نے پہلے دیے گئے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: عدالت میں

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان