فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور ان کی اہلیہ برجیٹ میکرون نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کے بارے میں امریکی دائیں بازو کی تبصرہ نگار کینڈیس اوونز کی جانب سے لگائے گئے بے بنیاد الزامات کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے عدالت میں تصویری اور سائنسی شواہد پیش کریں گے۔

میکرون خاندان نے جولائی 2025 میں کینڈیس اوونز کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا، جس نے بارہا دعویٰ کیا تھا کہ برجیٹ میکرون ایک ٹرانس جینڈر ہیں اور پیدائش کے وقت ان کا نام ’ژاں مشیل ٹروگنیو‘ تھا۔ اوونز نے یہاں تک کہا کہ برجیٹ نے کم عمری میں ایمانوئل میکرون کو ’گروم‘ کیا۔

یہ بھی پڑھیے فرانسیسی صدر کو غیرملکی دورے کے دوران اہلیہ نے تھپڑ رسید کردیا، ویڈیو وائرل

میکرون جوڑے کے وکیل ٹام کلئیر نے ایک پوڈکاسٹ Fame Under Fire میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ برجیٹ میکرون ان الزامات کو ’انتہائی تکلیف دہ‘ اور صدر کے لیے ’ایک پریشان کن خلل‘ سمجھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ دعوے نہ صرف ہتک آمیز ہیں بلکہ ان کے لیے ذاتی طور پر بہت تکلیف دہ ہیں۔ کسی کو اپنی شناخت کے ثبوت دینے پر مجبور ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔

ٹام کلئیر نے تصدیق کی کہ عدالت میں ماہرین کی گواہی اور سائنسی شہادتیں پیش کی جائیں گی۔ ساتھ ہی برجیٹ میکرون کی حاملہ ہونے اور بچوں کی پرورش کے شواہد بھی عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔

72 سالہ برجیٹ میکرون 3 بچوں کی ماں ہیں اور انہوں نے ایمانوئل میکرون کو اس وقت پڑھایا تھا جب وہ شمالی فرانس کے شہر ایمیان کی ہائی اسکول میں تدریس کے فرائض انجام دے رہی تھیں۔ اس وقت ایمانوئل میکرون طالبعلم تھے۔

یہ الزامات سب سے پہلے 2021 میں فرانس کے 2 بلاگرز نتاشا رے اور اماندین رائے کی ایک یوٹیوب ویڈیو کے ذریعے سامنے آئے تھے۔ میکرون جوڑے نے 2024 میں فرانس میں ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیتا تھا، مگر 2025 میں اپیل پر یہ فیصلہ اظہارِ رائے کی آزادی کی بنیاد پر کالعدم قرار دے دیا گیا، الزامات کی صداقت پر نہیں۔

کینڈیس اوونز، جس کے انسٹاگرام پر 60 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں، نے 2024 میں کہا تھا کہ وہ اپنے ’پورے پیشہ ورانہ کیریئر کی ساکھ‘ اس دعوے پر لگا سکتی ہیں کہ برجیٹ میکرون ’مرد پیدا ہوئیں‘۔

یہ بھی پڑھیے فرانسیسی صدر اور خاتون اول کے درمیان تناؤ؟ برطانیہ میں ہاتھ نہ تھامنے کے واقعے پر نئی قیاس آرائیاں

ٹام کلئیر نے مزید کہا کہ تحقیقات کے دوران اوونز کے فرانس کے انتہا دائیں بازو کے حلقوں سے قریبی تعلقات بھی سامنے آئے۔ ان کے بقول ’اوونز کا بڑا پلیٹ فارم ہے، ان کی باتیں نہ صرف لاکھوں سامعین سنتے ہیں بلکہ مرکزی میڈیا بھی ان کے جھوٹے بیانات کو بنیاد بنا کر خبریں دیتا ہے۔‘

انہوں نے واضح کیا کہ امریکا میں دائر مقدمہ دراصل ’آخری راستہ‘ ہے کیونکہ ایک سال تک اوونز سے رابطے کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں اور انہوں نے جھوٹے بیانات واپس لینے سے انکار کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

فرانسیسی صدر کی اہلیہ برجیٹ میکرون فرانسیسی صدر میکرون.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: فرانسیسی صدر میکرون ایمانوئل میکرون برجیٹ میکرون فرانس کے کہ برجیٹ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان