Islam Times:
2026-07-24@01:42:02 GMT

اسنیپ بیک فعال ہو جائیگا، امانوئل میکرون

اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT

اسنیپ بیک فعال ہو جائیگا، امانوئل میکرون

دراصل ایران کیخلاف امریکہ کے محکمہ خزانہ کیجانب سے لگائی گئی یکطرفہ پابندیاں پہلے سے ہی نافذ ہیں اسلئے ان پابندیوں کا ایران پر کوئی خاطر خواہ اثر نہیں پڑے گا۔ اسلام ٹائمز۔ فرانسوی صدر "امانوئل میکرون" نے اسرائیلی چینل 12 کو ایک انٹرویو دیا۔ جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران پر دوبارہ پابندیاں نافذ کی جا رہی ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس مہینے کے آخر تک ایران پر پابندیاں دوبارہ بحال ہو جائیں گی؟، تو انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں، میرے خیال میں ایسا ہی ہو گا۔ قبل ازیں آکسیوس کے ایک صحافی نے اطلاع دی کہ "اسنیپ بیک" نامی طریقہ کار سے متعلق ایک قرارداد کا مسودہ تیار کیا گیا ہے، جو ایران پر دوبارہ بین الاقوامی پابندیاں نافذ کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ مسودہ آج اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان میں تقسیم کیا جائے گا اور کل اس پر ووٹنگ ہو گی۔

واضح رہے کہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے لیے 30 دن کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ان ممالک کا دعویٰ ہے کہ ایران نے 2015ء کے جوہری معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں۔ یورپی ممالک کے اس اقدام کو امریکہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ تاہم، اس طریقہ کار کے تحت جو پابندیاں لاگو ہونی ہیں ان میں ایران پر کوئی بینکنگ یا تیل کی پابندیاں شامل نہیں۔ دراصل ایران کے خلاف امریکہ کے محکمہ خزانہ کی جانب سے لگائی گئی یکطرفہ پابندیاں پہلے سے ہی نافذ ہیں اس لئے ان پابندیوں کا ایران پر کوئی خاطر خواہ اثر نہیں پڑے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران پر

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف