دوحہ اجلاس فلسطین کا مزید جنازہ نکالنے کے مترادف ہے، علامہ جواد نقوی
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ دوحہ اجلاس کے متعلق جس کے ذہن میں ایک فیصد بھی مثبت خیال پیدا ہوا، وہ شعور اور بصیرت سے محروم ہے۔ اجلاس کے فوراً بعد غزہ پر حملوں میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اجلاس دراصل فلسطینی خون کیخلاف ایک بین الاقوامی سودے بازی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ سربراہ تحریک بیداری امت مصطفی علامہ سید جواد نقوی نے لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عرب حکمرانوں کا حالیہ دوحہ میں ہونیوالا اجلاس فلسطین کے حق میں سب سے بڑا ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس امت مسلمہ کیلئے نہیں بلکہ امریکہ اوراسرائیل کے مزید جرائم کی راہ ہموار کرنے کیلئے تھا۔ علامہ سید جواد نقوی نے کہا کہ یہ اجلاس سراسر شرمناک تھا اور صہیونیت کیخلاف کوئی موقف پیش کرنے کے بجائے عرب حکمرانوں نے صرف اپنے اقتدار کی ضمانت مانگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس اسی لیے منعقد کیا گیا تھا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کہیں کوئی غیرتمند حکمران تو موجود نہیں، کیونکہ غیرتمند حکمران سے ان کو خطرہ ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان سب میں کوئی غیرتمند نہ نکلا، سب انسانیت سے عاری ثابت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ اجلاس کے متعلق جس کے ذہن میں ایک فیصد بھی مثبت خیال پیدا ہوا، وہ شعور اور بصیرت سے محروم ہے۔ اجلاس کے فوراً بعد غزہ پر حملوں میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اجلاس دراصل فلسطینی خون کیخلاف ایک بین الاقوامی سودے بازی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ یہ اجلاس اجلاس کے کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔