ہر پاکستانی مکہ اور مدینہ کی حفاظت کرنا چاہتا ہے،بلاول بھٹو زرداری
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کو پاکستان کے لیے مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر پاکستانی مکہ اور مدینہ کی حفاظت کرنا چاہتا ہے۔
چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹوزرداری نے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ، میئر کراچی اور صوبائی وزرا، ارکان اسمبلی اور سییٹرز کے ہمراہ گریٹر سیوریج پلانٹ کا معائنہ کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان مسلسل بات چیت ہوتی ہے۔
بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ وزیراعظم کراچی کے حوالے سے وعدے کر کے گئے ہیں، ان پر عمل کریں گے، ایس تھری بھی وفاقی حکومت کا منصوبہ تھا اور اب صوبائی حکومت کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں تبدیلی کے حوالے سے آپ خود خبریں چلاتے ہیں، پھر مجھ سے آپ خود سوال کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر مملکت پورے ملک کے ہیں اور چین میں ملک کے منصوبوں پر بات ہوئی اور وہ اپنے سابقہ ریکارڈ خود توڑیں گے، چین میں صدر آصف علی زرداری کو بہت پذیرائی ملی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ کے سالڈ ویسٹ اور دیگر منصوبوں پر بات ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب پر سیاست کرنے کا وقت نہیں، قدرتی آفت آتی ہے تو دنیا سے اپیل کی جاتی ہے لہٰذا اقوام متحدہ سے اپیل کرنی چاہیے لیکن وفاقی حکومت نے آج تک اقوام متحدہ سے اپیل نہیں کی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صحت کے حوالے سے بہت سارے مسائل جنم لیں گے، آج بھی سمجھتا ہوں کہ وزیراعظم عالمی سطح پر اپیل کریں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت متاثرین کی مدد کی جائے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جو معاہدہ ہوا وہ پاکستان کے حق میں ہے، پاک سعودی دفاعی معاہدہ دونوں ملکوں کے لیے مثبت ہے۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں جنگ میں ہم نے بھارت کو شکست دی ، ہر پاکستانی مکہ مدینہ کی حفاظت کرنا چاہتا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت کرکٹ کو سیاست میں ملوث کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری انہوں نے کہا نے کہا کہ
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ