Jasarat News:
2026-07-24@06:10:42 GMT

پاک سعودیہ معاہدے میں فیلڈ مارشل کا کردار قابل ستائش ہے

اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (کامرس ڈیدک)پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تاریخی اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ خطے میں نئی اسٹریٹجک صف بندی اور 50 ارب ڈالر کے معاشی مواقع کا سنگ میل ہے جس سے پاکستان کو بہت فائدہ پہنچے گا۔پاکستان بزنس نیٹ ورک کے صدر عمر بٹ نے کہا کہ ایسے وقت میں جب عرب ریاستیں امریکہ پر انحصار کم کر رہی ہیں فیلڈ مارشل نے ملکی مفاد میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔معاہدے کے تحت فوجی تربیت، مشقوں اور انٹیلی جنس شیئرنگ سمیت وسیع تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ پاکستانی دفاعی کنٹریکٹرز پہلے ہی ریڈار سسٹمز، بارڈر سیکیورٹی اور سائبر ڈیفنس ٹیکنالوجیز میں سعودی شراکت داری کے لیے سرگرم ہیں۔کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے عمر بٹ نے کہا کہ اب پاکستانی کمپنیوں کو سعودی ویڑن 2030 کے تحت نیوم اور دیگر میگا پراجیکٹس میں براہِ راست شمولیت کا موقع ملے گا۔ سعودی عرب کے 500 ارب ڈالر کے منصوبوں سے پاکستانی تعمیراتی ادارے، انجینئرنگ کنسلٹنٹس اور صنعت کاروں کو نئے مواقع میسر آئیں گیجبکہ ٹیکسٹائل فارما اور زرعی مصنوعات کے لیے سعودی منڈیوں تک رسائی آسان ہوگی۔معاہدے کی کامیابی میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار نمایاں رہا۔ یہ شراکت داری توانائی کے شعبے میں بھی پاکستان کے لیے نئے امکانات کے لئے اہم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ماضی کے تجربات بیوروکریٹک رکاوٹوں اور پالیسی کے عدم تسلسل کے باعث مشکلات کا شکار رہے ہیں۔ سی پیک کی مثال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیکیورٹی خدشات بڑے منصوبوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔عمر بٹ نے کہا کہ یہ کئی ممالک کے لیے واضح پیغام ہے کہ سعودی عرب متبادل سیکیورٹی آپشنز اختیار کر رہا ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی کے لیے سی پیک کے بعد سب سے بڑی اسٹریٹجک پیش رفت ہے جو معیشت کو متنوع بنانے اور خلیجی سرمایہ کاری تک رسائی کے نئے دروازے کھول دے گی۔ یہ دفاعی معاہدہ خطے میں طاقت کے توازن کو نئے رخ پر لے جائے ھا۔ اگر اس پر مؤثر عمل درآمد ہوا تو پاکستان کو خلیجی تعاون کونسل کے دیگر ممالک میں بھی نئے مواقع مل سکتے ہیں۔ یہ شراکت داری پاکستان کے لیے سی پیک سے بھی زیادہ وسیع معاشی امکانات پیدا کر سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار