سٹی 42 : ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات 1960 سے جاری ہیں، موجودہ باہمی تزویراتی دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کے لیے خطرہ کے طور پر استعمال  نہیں ہو گا، معاہدے کے تحت ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہو گا۔ 

ان خیالات کا اظہار ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کیا، کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کا دورہ کیا، یہ دورہ وزیراعظم نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر کیا، وزیر اعظم نے سعودی قیادت کے ساتھ تزویراتی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے تحت ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہو گا۔ 

آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ 2025 کا آفیشل گانا جاری

 ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر اعظم نے خادم الحرمین الشریفین سلمان بن عبد العزیز کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کیا۔ وزیر خارجہ نے دوحہ میں او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر اعظم نے دوحہ میں ہنگامی او آئی سی سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔ مسلح افواج کے سربراہ بھی دوحہ موجود تھے۔ وزیر اعظم نے فلسطین کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا، انہوں نے قطر پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی، وزیر اعظم نے قطر کی علاقائی سالمیت و خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کی۔ 

بھارتی گلوکارزوبین گارگ سکوباڈائیونگ حادثے میں انتقال کرگئے

ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ صدر مملکت چین کا دورہ کر رہے ہیں، انہوں نے شنگھائی اور چنگڈو کے دورے کیے۔ انہوں نے بتایا کہ 16ستمبر کو نائب وزیراعظم سے جرمن وزیر خارجہ کا ٹیلی فون رابطہ ہوا۔ اسحاق ڈار سے گذشتہ روز مصری وزیر خارجہ نے ٹیلیفون رابطہ کیا۔ 13 ستمبر کو امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے نائب وزیراعظم سے رابطہ کیا۔ 

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان مختلف ممالک کے ساتھ مل کر ثابت قدم امدادی بحری بیڑے کے خلاف کسی اقدام کا مخالف ہے۔ بین الاقوامی پانیوں میں ثابت قدم فلوٹیلا پر کسی قسم کے حملے سے باز رہنے کی اپیل کرتے ہیں۔ 

نمبرپلیٹس، فائلز،سمارٹ کارڈز کے ڈلیوری بڑھا دیے گئے

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات منفرد,  طویل المدت ہیں، دونوں ممالک کی قیادت باہمی قیادت ان تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانا چاہتی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات 1960 سے جاری ہیں، موجودہ باہمی تزویراتی دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کے لیے خطرہ کے طور پر استعمال  نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی راہنماوں کو نصیحیت کرتے ہیں کہ وہ اپنے نقصانات کا جائزہ لیں، بھارت کی پاکستان کی طرف سے جوہری خطرے کی تنبیہہ ایک مس انفارمیشن ہے۔ 

ہم بجلی کی پیداوار، تجارت اور ترسیل کے ایک نئے دور آغاز کر رہے ہیں؛ اویس لغاری

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں تقریر کی تاریخ سے جلد مطلع کریں گے، بھارت کی جانب سے دیگر ممالک میں دہشت گردی کے شواہد موجود ہیں، پاکستان بہت سے سکھ مقامات کا کسٹوڈین ہے، ابھی تک بھارت کی جانب سے سکھ یاتریوں کو روکنے یا ویزے جاری نہ کرنے کی سرکاری طور پر اطلاع نہیں دی گئی، تاہم بھارت ایک طویل عرصہ سے سکھ یاتریوں کو پاکستان آمد سے روک رہا ہے، گردوارہ کرتار پور صاحب مکمل طور پر فعال ہے۔ 

 یکم ربیع الثانی 1447 ہجری کا آغاز 24 ستمبر کو متوقع

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر اعظم کا بیان نہایت واضح ہے، وزیر اعظم نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ اچھے ہمسائیگی والے تعلقات چاہتے ہیں، وزیر اعظم کا بیان افغانستان کو سفارتی زرائع سے بھجوایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمائندہ خصوصی صادق خان کا دورہ معمول کا دورہ ہے، جونہی ان کا نیا دورہ افغانستان طے ہو گا ہم میڈیا کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کریں گے۔ 

انہوں نے کہا کہ ہم زلمے خلیل زاد کے بیانات کا جواب نہیں دیتے، بگرام کا معاملہ کابل میں افغان حکومت اور امریکی حکومت کا باہمی معاملہ ہے۔ 

ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ پاک سعودی عرب دفاع اور معاشی تعلقات جہت میں مختلف ہیں، پاک سعودی عرب باہمی تزویراتی معاہدے میں دفاعی پیداوار پر تبصرہ نہیں کر سکتے، تاہم پاکستان سعودی عرب دفاعی تعلقات ایک طویل المدت تعلقات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا جوہری ڈاکٹرائن ہماری اندرونی دستاویز ہے، اس کا دیگر ممالک سے کوئی لینا دینا نہیں ، ہمارا جوہری ڈاکٹرائن انتہائی واضح ہے، حالیہ ایران اسرائیل تناو میں ہمارا موقف انتہائی واضح تھا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے نے بتایا کہ نے کہا کہ انہوں نے پر حملہ کا دورہ کے ساتھ

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل