پولیس کی وردی میں ملبوس 4 افراد مبینہ طور پر لاہور کے علاقے ہربنس پورہ میں ایک شخص کو اغوا کر کے لے گئے اور بعد ازاں 40 لاکھ روپے تاوان وصول کرنے کے بعد اُسے چھوڑ دیا۔

نجی اخبار میں شائع خبر کے مطابق پولیس نے ابتدائی انکوائری کے بعد ملزمان کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاکہ انہیں تلاش اور گرفتار کیا جا سکے۔

اپنی شکایت میں میڈیکل سوسائٹی کے رہائشی متاثرہ شخص ندیم نے بتایا کہ وہ جمعہ کی صبح تقریباً 11 بجے اپنی کار میں 15 لاکھ روپے کی نقد رقم لے کر ادائیگی کرنے جا رہا تھا۔

اس نے کہا کہ ہربنس پورہ کے علاقے میں پولیس کی وردی میں ملبوس 4 افراد دو موٹرسائیکلوں پر اس کا پیچھا کرتے ہوئے آئے اور اس کی کار کو روک لیا۔

ندیم نے بتایا کہ ملزمان نے گاڑی کی تلاشی کے بہانے سیٹوں پر قبضہ کر لیا اور پھر اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی، بعد ازاں وہ اُسے ایک نامعلوم مقام پر لے گئے جو کسی آؤٹ ہاؤس جیسا لگ رہا تھا۔
شکایت کنندہ نے کہا کہ اغوا کاروں نے شروع میں اُس کی محفوظ رہائی کے بدلے 10 کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا اور رقم کا انتظام کرنے کو کہا، تاہم بعد از مذاکرات 5 کروڑ روپے پر بات طے ہوئی۔

اس نے کہا کہ اس نے اپنے دوست علی رضا کو فون کر کے رقم کا بندوبست کرنے کو کہا، لیکن رضا نے بتایا کہ اس کے پاس صرف 25 لاکھ روپے ہیں، اغوا کار ناراض ہو گئے، مگر بعد میں اسی پر راضی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے ندیم اور اس کے دوست رضا کو بتایا کہ وہ ایک خطرناک جرائم پیشہ گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اگر تاوان نہ دیا گیا تو ندیم کو قتل کر دیں گے۔

ندیم نے بتایا کہ اُس کے دوست رضا نے اغوا کاروں کو 25 لاکھ روپے ادا کیے، جب کہ ملزمان نے اُس کے پاس موجود ڈیڑھ کروڑ روپے نقدی اور اُس کی دو تولے کی سونے کی چین بھی چھین لی۔

اغوا کاروں نے ندیم کو رنگ روڈ کے قریب چھوڑ دیا اور خود فرار ہو گئے، متاثرہ شخص نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک پولیس افسر نے کہا کہ انویسٹی گیشن پولیس پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے کیمروں کی مدد سے اغوا کاروں کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نے بتایا کہ اغوا کاروں لاکھ روپے نے کہا کہ

پڑھیں:

لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی

لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔

سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔

ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔

شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔

متعلقہ مضامین

  • کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار
  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • مردان: 3 افراد کو قتل کرنیوالے ملزمان انکے 2 بچے چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار