کیلیفورنیامیں بھارتی انجینئر پولیس کی فائرنگ سے ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سانتا کلارا میں 30 سالہ بھارتی انجینئر پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہو گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق محمد نظام الدین ریاست تلنگانہ کے ضلع محبوب نگر کا رہائشی تھا۔ واقعہ 3 ستمبر کو پیش آیا تھا جہاں محمد نظام الدین کو سانتا کلارا کی پولیس نے کمرے میں چھری کے ساتھ پایا۔ اِس دوران محمد نظام الدین نے اپنے ایک زخمی روم میٹ کو قابو کیا ہوا تھا۔ سانتا کلارا پولیس کا کہنا ہے کہ اِنہیں 911 پر ایک کال موصول ہوئی تھی جس میں گھر کے اندر جھگڑے اور چھری سے حملے کی اطلاع دی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق موقع پر پہنچنے کے بعد نظام الدین کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور فائرنگ کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگیا، بعدازاں اِسے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اِسے مردہ قرار دے دیا گیا جبکہ اِس کے روم میٹ کو شدید زخمی حالت میں اسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ سانتا کلارا پولیس ڈیپارٹمنٹ اور کاؤنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی کا دفتر اس واقعے کی مشترکہ تحقیقات کر رہا ہے۔ دوسری جانب محمد نظام الدین کے اہلِ خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ فائرنگ سے پہلے خود نظام الدین نے ہی پولیس کو مدد کے لیے فون کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا بیٹا ایک خاموش مزاج شخص تھا اور اْس نے امریکا میں ملازمت کے دوران نسلی امتیاز، ہراسانی اور اْجرت میں دھوکا دہی کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ نظام الدین کے اہل خانہ نے بیٹے کی لنکڈ اِن پوسٹس کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں نظام الدین نے واضح الفاظ میں لکھا تھا کہ میں نسلی نفرت، امتیاز، ہراسانی، اذیت، اْجرت میں دھوکا دہی اور ناجائز برطرفی کا شکار رہا ہوں۔ سفید فام برتری اور نسل پرست امریکی ذہنیت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اہل خانہ کے مطابق اِن کے بیٹے نے اپنی زندگی میں اپنے کھانے میں زہر ملانے، زبردستی گھر سے نکالے جانے اور مسلسل نگرانی کیے جانے جیسے سنگین حالات کا اظہار بھی کیا تھا۔ نظام الدین کے والد نے بھارتی وزارتِ خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کروائی جائے اور اِن کی میت وطن واپس لانے کے انتظامات کیے جائیں۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محمد نظام الدین نظام الدین کے سانتا کلارا
پڑھیں:
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئےفتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 مئی کو پیش آنے والے ٹرین واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد آپریشنز کیے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ
آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید اور سخت فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جس سے ان علاقوں میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔
ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور
بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایس پی آر بلوچستان دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز