سکیورٹی فورسز کا قلات میں آپریشن، بھارتی حمایت یافتہ 4 دہشت گرد جہنم واصل
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سکیورٹی فورسز نے قلات میں آپریشن کر کے بھارتی حمایت یافتہ 4 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بلوچستان کے ضلع قلات میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا گیا، سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا، ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا، مارے گئے دہشت گرد متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے۔
ایک ماہ کیلئے اتوار کو تمام کمرشل سرگرمیاں بند کرنی چاہئے،لاہور ہائیکورٹ کی سموگ تدارک کیس میں تجویز
ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ علاقے میں مزید دہشت گردوں کی تلاش کیلئے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، ’’عزمِ استحکام‘‘ ویژن کے تحت انسدادِ دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی۔
صدر مملکت اور وزیراعظم کا سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بلوچستان کے ضلع قلات میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
آصف علی زرداری نے چار بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خاتمے کو قومی سلامتی کیلئے اہم کامیابی قرار دیا اور سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم و استقلال کو سراہا۔
اظہر جاوید سماء ٹی وی پاکستان کے برطانیہ میں بیورو چیف مقرر
انہوں نے کہا کہ قوم سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہے اور دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے عزم پر قائم ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وطن دشمن عناصر کے خلاف آپریشن “عزمِ استحکام” کے تسلسل کو قومی سلامتی کیلئے ناگزیر قرار دیا۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے قلات میں فتنہ الہندوستان کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پزیرائی کی ہے۔
انہوں نے بھارتی پشت پناہی میں سرکردہ 4 دہشتگردوں کو جہنم رسید کرنے پر سکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دھہتگردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔
ہتک عزت دعویٰ ؛وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بطور گواہ سیشن کورٹ میں پیش
وزیراعظم نے کہا کہ ارض وطن کی حفاظت کے غیر متزلزل عزم میں مجھ سمیت پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
ادھر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی قلات میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے خلاف کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین کیا اور سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا۔
انہوں نے 4 بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کو سلام پیش کیا اور کہا کہ سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے انڈین سپانسرڈ دہشت گردوں کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنایا، قوم فتنہ الہندوستان کے خاتمے کیلئے سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
علیمہ خان کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کرانے کیلئے پولیس کی خصوصی ٹیم تشکیل
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ بھارتی سپانسرڈ دہشت گردوں کا عبرتناک انجام واضح پیغام ہے کہ پاکستان میں اس فتنے کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بھارتی حمایت یافتہ پر سکیورٹی فورسز سکیورٹی فورسز کو قلات میں گردوں کو گردوں کے کے خلاف کہا کہ
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔