ایشیا کپ کا اہم مرحلہ، ویلالاگے والد کی آخری رسومات چھوڑ کر یو اے ای روانہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
ایشیا کپ 2025 سپر فور مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، آج بنگلہ دیش اور سری لنکا کی ٹیمیں پہلے میچ میں مدمقابل آئیں گی۔
سری لنکا کے اہم آل راؤنڈر دونیتھ ویلالاگے میچ میں شرکت کے لیے والد کی آخری رسومات چھوڑ کر یو اے ای روانہ ہوگئے ہیں۔
وہ آج بنگلہ دیش کے خلاف میچ کے لیے ٹیم کو دستیاب ہوں گے۔
https://x.com/nibraz88cricket/status/1969266233431507011
یاد رہے کہ 18 ستمبر کو افغانستان کیخلاف ایک اوور میں پانچ چھکے کھانے والے ویلالاگے کے والد میچ کے دوران ہارٹ اٹیک کے باعث انتقال کرگئے تھے۔
انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال لے جایا گیا تھا جہاں وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔
میچ کے بعد کوچ سنتھ جے سوریا اور ٹیم مینجر نے ویلالاگے کو والد کے انتقال کی خبر دی تھی جس کے بعد وہ فوری طور پر وطن واپس روانہ ہوگئے تھے۔
ویلالاگے کے والد کی آخری رسومات 21 ستمبر کو کولمبو میں ادا کی جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔