جعفر ایکسپریس کا ماسٹر مائنڈ گل رحمان افغانستان میں ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
مختلف رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ہلاک ہونیوالا گل رحمان نہ صرف دہشتگرد تنظیم کا آپریشنل کمانڈر اور ٹرینر تھا بلکہ اسے جعفر ایکسپریس حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ دہشتگرد گل رحمان عرف استاد مرید افغانستان کے صوبہ ہلمند میں پراسرار طور پر ہلاک ہوگیا۔ مختلف پاکستانی اخباروں کی رپورٹ کے مطابق گل رحمان نہ صرف دہشتگرد تنظیم کا آپریشنل کمانڈر اور ٹرینر تھا بلکہ اسے جعفر ایکسپریس حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان میں سکیورٹی فورسز، چینی شہریوں، اہم تنصیبات اور معصوم شہریوں پر کئی دہشتگردانہ حملوں میں براہ راست ملوث تھا۔
رپورٹ کے مطابق گل رحمان کی نگرانی میں ہونے والی بڑی کاروائیوں میں جعفر ایکسپریس بم دھماکہ، کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملہ، گوادر کے پی سی ہوٹل پر حملہ، خضدار میں سکول بس دھماکہ، کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کراچی میں خودکش حملہ، پاکستان سٹاک ایکسچینج پر حملہ اور کوئٹہ ریلوے سٹیشن میں بم دھماکہ شامل ہیں۔ مزید بتایا جا رہا ہے کہ کالعدم تنظیم کی مجید بریگیڈ جو اس دہشتگرد تنظیم کا عسکری ونگ ہے، کو امریکا عالمی دہشتگرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔ جبکہ پاکستان اور چین نے اسے اقوام متحدہ کی دہشتگرد فہرست میں شامل کرنے کا باضابطہ مطالبہ بھی کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گل رحمان افغانستان میں روپوش تھا اور وہیں سے پاکستان میں دہشتگردانہ نیٹ ورک کو کنٹرول کر رہا تھا۔ اس کی ہلاکت کو نہ صرف دہشتگرد نیٹ ورک کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اس بات پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ افغان سرزمین بدستور پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ پاکستانی حکام نے اس پیشرفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایک بار پھر عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فتنہ الہندوستان جیسے نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے تاکہ خطے میں امن و استحکام ممکن بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق دہشتگرد تنظیم جعفر ایکسپریس دیا جا رہا ہے گل رحمان
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک