صرف ریاست کی رٹ قائم کرنا نہیں بلکہ عوامی حقوق کا تحفظ بھی حکومتوں کی ذمہ داری ہے
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 ستمبر2025ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکمران اپنی ناکامیوں کو تسلیم کریں اور نظام میں بہتری لائیں۔ صرف ریاست رٹ قائم کرنا ہی نہیں عوام کو بنیادی سہولیات اور حقوق کی فراہمی بھی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ کی مقامی یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر پروفیسر شکیل روشن سمیت متعدد نمایاں شخصیات نے جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ تقریب سے امیر صوبہ مولانا ہدایت الرحمن، سابق امیر مو لانا عبدالحق ہاشمی، پروفیسر شکیل روشن اور دیگر راہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران خوف خدا کرتے ہوئے خلق خدا کو ان کا حق دیں۔(جاری ہے)
اسلام میں اقلیتوں سمیت ریاست کے ہرشہری کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں کرپشن، تعلیم و صحت کی سہولتوں کی عدم دستیابی، توانائی بحران اور نسلی امتیاز کی شدید مذمت کی اور کہا کہ جماعت اسلامی مشترکات کو مدنظر رکھتے ہوئے قوم کو جوڑنے اور اللہ کی حاکمیت کی جدوجہد جاری رکھے گی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان میں کرپشن کا سخت مقابلہ جاری ہے جو مافیا کی سرپرستی کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کے زوال کا سبب بن رہا ہے۔ انہوں نے بلوچستان کی پسماندہ آبادیوں کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی مظلوموں کے ساتھ ہے، بہتر لوگوں کو آگے لانے کے لیے جدوجہد تیز کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقعوں کی فراہمی ترقی کی کنجی ہے۔ صوبہ میں تعلیمی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے گہری تشویش کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں 26 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں جو ایک قومی شرمندگی ہے۔ تعلیم کوئی خیرات نہیں بلکہ ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سورج کی روشنی سے بجلی بنانے کا آسان اور بہتر فارمولا موجود ہے، جسے فوری عمل میں لایا جائے تاکہ عوام کو سستی بجلی مل سکے۔ اجتماعی ترقی اور عدل و انصاف پر زور دیتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ غلطیوں کی بروقت نشاندہی کرتے رہنا ضروری ہے، کیونکہ آئی ٹی ایم (انفارمیشن ٹیکنالوجی مینجمنٹ) کی بنیاد پر ہی اجتماعی ترقی ممکن ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا تمام قبائل اور برادریوں کی دیکھ بھال حکمرانوں کا فرض ہے اور قبائلی و نسلی امتیاز نفرت کا باعث نہیں بلکہ اتحاد کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ حضور پاک نے انصاف اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کیے۔ زبان اور قوم کی بنیاد پر نہیں بلکہ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں اسلام کا مجموعی نظام پوری انسانیت کی فلاح کا ضامن ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے مساوات اور اجتماعیت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تعلیم یافتہ افراد اجتماعیت کی بہترین مثال بن جاتے ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے حافظ نعیم الرحمن نے بلوچستان میں جماعت اسلامی نہیں بلکہ کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔