بلوچستان کے نظام میں انصاف کی کمی، تبدیلی لانا ضروری ہے، حافظ نعیم الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
کوئٹہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہم ٹیکس دیتے ہیں، اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہمیں تعلیم فراہم کرے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ جو لوگ عوام کو تقسیم کرتے ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ کوئٹہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے بلوچستان کی ترقی اور نوجوانوں کے مستقبل پر بات کی اور کہا کہ بلوچستان کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار وسائل سے نوازا ہے، لیکن یہاں انصاف کا نظام خراب ہے، جسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے بلوچستان کے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر نوجوان تعلیم حاصل کریں تو وہ نہ صرف اپنے علاقے کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک اہم اثاثہ بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آج بلوچستان کا روشن مستقبل نظر آ رہا ہے اور یہ تعلیم ہی ہے جو نوجوانوں کو آگے بڑھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ اپنی تعلیم کو اپنے علاقے کی ترقی کی بنیاد بنائیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بلوچستان میں موجودہ نظام میں انصاف کی کمی ہے اور اس میں تبدیلی لانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم اس نظام کو نہیں بدلیں گے، ہمیں اپنے مسائل کا حل نہیں ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھائے گی اور اس علاقے کی ترقی کے لیے جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے بلوچستان میں تعلیم کے شعبے کی حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے تقریباً 45 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ انہوں نے حکومت کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو معیاری اور مفت تعلیم فراہم کرنا چاہیے، کیونکہ تعلیم تجارت نہیں ہونی چاہیے۔ امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی اپنے پروگرام کے تحت بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے مفت کورسز فراہم کرے گی تاکہ وہ تعلیمی میدان میں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاق اور چاروں صوبوں کی حکومتیں ہر سال 2 ہزار ارب روپے سے زائد رقم تعلیم کے شعبے پر خرچ نہیں کرتی ہیں، جو کہ ملک کے مستقبل کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ٹیکس دیتے ہیں، اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہمیں تعلیم فراہم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نوجوانوں کو آئی ٹی پروگرامز میں سہولتیں فراہم کرے تو اس سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بلوچستان کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو سراہا اور کہا کہ بلوچستان کے نوجوان انتہائی باصلاحیت ہیں اور وہ پورے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ہم جتنے بھی دکھوں اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ہم ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے جماعت اسلامی کی آئندہ سیاسی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 21 سے 23 ستمبر کو لاہور کے مینار پاکستان پر ایک بڑا اجتماع منعقد کیا جائے گا۔ اس اجتماع کا مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور جماعت اسلامی کی عوامی حمایت کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ ہماری عوام ایک ہیں، لیکن کچھ عناصر انہیں ایک دوسرے سے دور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 78 سال کے دوران حکمرانوں نے ملک کی ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ تاہم جماعت اسلامی کا ماننا ہے کہ نوجوانوں کی محنت اور تعلیمی ترقی کے ذریعے پاکستان کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بلوچستان جماعت اسلامی بلوچستان کے نے بلوچستان ہوئے کہا کہ کرتے ہوئے فراہم کرے نے کہا کہ انہوں نے کی ترقی کے لیے
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔