عمارت کا انہدام ،شہری سلامتی کے بحران پر سوالات اٹھ گئے
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی( اسٹاف رپورٹر)4 جولائی کی صبح کراچی کے پسماندہ علاقے لیاری میں ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت گرنے سے کم از کم 27 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے تھے ۔محفوظ پاکستان کے مطابق ریسکیو ٹیموں کو ملبے سے لاشیں نکالنے میں تین روز لگے جبکہ گنجان علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔یہ عمارت، جو مبینہ طور پر 25 سال سے زیادہ پرانی تھی، واضح طور پر ڈھانچے کی کمزوریوں کا شکار تھی۔ مقامی مکینوں کے مطابق اسے کئی بار غیر محفوظ قرار دیا گیا تھا مگر کوئی عملی اقدام نہ کیا گیا۔ سستی رہائش کی کمی کے باعث کئی خاندان اسی عمارت میں رہائش پذیر رہے۔ کراچی میں تیز رفتار ہجرت، بلند کرائے اور کمزور منصوبہ بندی نے نچلے طبقے کے لیے مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔یہ سانحہ کراچی میں عمارتوں کے انہدام کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے، جو غیر منظم شہری توسیع اور حفاظتی معیارات پر عملدرآمد نہ ہونے کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔ ماہرین شہری منصوبہ بندی کے مطابق شہر کی ترقی اس کے ضابطہ جاتی ڈھانچے سے کہیں آگے نکل گئی ہے۔ لیاری جیسے علاقوں میں تنگ گلیاں، بوجھل انفراسٹرکچر اور بے ہنگم تعمیرات عمارتوں کی نگرانی اور ہنگامی کارروائی کو مشکل بنا دیتے ہیں۔لیاری، جو کراچی کے قدیم اور گنجان آباد علاقوں میں سے ایک ہے، طویل عرصے سے خستہ حال انفراسٹرکچر، غیر قانونی تعمیرات اور کمزور نگرانی کا شکار ہے۔ بیشتر عمارتیں بغیر سرکاری منظوری، غیر معیاری سامان اور انجینئرنگ قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کی جاتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ برسوں کی سیاسی مداخلت، سرکاری محکموں میں بدانتظامی اور بدعنوانی نے غیر قانونی تعمیرات کو فروغ دیا ہے۔ اگرچہ کراچی میں تعمیراتی قوانین کاغذوں پر موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔شہری ماہرین اور سول سوسائٹی نے خطرناک عمارتوں کا فوری آڈٹ کرنے، سخت قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے اور عوام کو محفوظ و سستی رہائش کی فراہمی پر زور دیا ہے۔یہ سانحہ ایک بار پھر واضح کرتا ہے کہ اگر شہری منصوبہ بندی اور ضابطہ سازی میں فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو سب سے زیادہ قیمت کراچی کی نچلی آبادیوں کو ہی چکانی پڑے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
امریکا میں آپریشن چیک میٹ کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری سخت کریک ڈاؤن کی لپیٹ میں ہیں۔
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کے لیے وبال جان بن چکے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا نے وفاقی امیگریشن نافذ کرنے کی مہم ’آپریشن چیک میٹ‘ کے تحت سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق آپریشن چیک میٹ کے تحت گرفتار کیے گئے 36 ٹرک ڈرائیوروں میں سے کم از کم 30 بھارتی شہری تھے۔
خود بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس تک موجود نہیں تھے ۔ تمام افراد کیخلاف امریکی قانون کے تحت کارروائی کر کے امریکا سے نکالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
یوما سیکٹر کے قائم مقام چیف پٹرول ایجنٹ ڈسٹن کاڈل نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر موجود بھارتی ڈرائیورعوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں ۔
سعودی عرب، کینیڈا اور امریکا سمیت بیشتر ممالک جعلی دستاویزات اورفراڈ سمیت متعدد وجوہات کی بنیاد پر بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر چکے ہیں ۔ بھارتی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق2021 سے 2025 کے دوران 52 مختلف ممالک سے 171,150 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق مودی کے نام نہاد شائننگ انڈیا کے دعووں کے باوجود بھارتی شہریوں نےغیر قانونی طور پر ملک سے بھاگ کر بھارت کا پول کھول دیا ہے۔ مختلف ممالک میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور سنگین جرائم میں ملوث بھارتی تارکین عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔