یونان، اسپین اور جاپان میں فلسطین حمایت مظاہرے، اسرائیل میں بھی جنگ بندی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایتھنز: غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں فلسطین حمایت مارچ کا اہتمام کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مارچ کے شرکا نے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور یونانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کیے جائیں اور فلسطینی عوام کی حمایت میں مؤثر کردار ادا کیا جائے۔
اسی طرح اسپین میں ہیلتھ ورکرز نے ہاتھوں پر سرخ رنگ لگا کر غزہ میں جاری قتلِ عام کی علامتی مذمت کی اور عالمی برادری سے فلسطینی عوام کی نسل کُشی روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسپین سمیت یورپی ممالک کو انسانی حقوق کی بالادستی کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
جاپان میں بھی سماجی کارکنوں نے فلسطینی پرچم اٹھا کر ٹوکیو کی سڑکوں پر احتجاج کیا اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف نعرے لگائے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ دنیا کے بڑے ممالک دوہرے معیار ترک کریں اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کریں۔
دوسری جانب اسرائیل کے اندر بھی نیتن یاہو حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ تل ابیب میں ہزاروں اسرائیلی شہری جمع ہوئے اور اپنی ہی حکومت سے غزہ کے ساتھ فوری جنگ بندی معاہدہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
خیال ر ہے کہ ایک جانب عالمی سطح پر فلسطینی عوام کے حق میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں مگر دوسری طرف غزہ میں امریکا اور اسرائیل امداد کے نام پر دہشت گردی کر رہے ہیں اور عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جبکہ مسلم حکمران بھی کھلی بے حسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فلسطینی عوام
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔