کرنسی نوٹوں سے ’’حصولِ رزقِ حلال عبادت ہے‘‘ کی عبارت ہٹادی گئی؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر یہ تاثر تیزی سے پھیلایا گیا کہ پاکستانی کرنسی نوٹوں سے ’’حصولِ رزقِ حلال عبادت ہے‘‘ کی عبارت ختم کر دی گئی ہے۔
مختلف صارفین نے فیس بک، ایکس (ٹوئٹر)، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر اس دعوے کو دہرایا اور کہا کہ پہلے یہ الفاظ نوٹوں کی پشت پر درج ہوتے تھے لیکن اب انہیں ہٹا دیا گیا ہے۔
اس مبینہ اقدام پر ناقدین نے شدید اعتراض بھی کیا اور یہ سوال اٹھایا کہ اگر اس عبارت کو ختم کر دیا گیا ہے تو پھر حلال اور حرام آمدنی کے فرق کو کون نمایاں کرے گا۔
تاہم یہ دعویٰ درست نہیں نکلا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایک عہدیدار، بینک کی سرکاری ویب سائٹ اور آزادانہ طور پر کی گئی جانچ پڑتال کے بعد واضح ہوا ہے کہ یہ عبارت اب بھی تمام پاکستانی کرنسی نوٹوں پر موجود ہے۔
ایک سرکاری عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر درج ہر کرنسی نوٹ کے ڈیزائن اور سیکیورٹی فیچرز کی تفصیل میں یہ جملہ شامل ہے۔ دس روپے سے لے کر پانچ ہزار روپے تک تمام نوٹوں کی پشت پر ’’حصولِ رزقِ حلال عبادت ہے‘‘ کے الفاظ واضح طور پر درج ہیں۔ عہدیدار نے اس مقصد کے لیے ویب سائٹ کا متعلقہ صفحہ بھی فراہم کیا جس میں نوٹوں کے ڈیزائن کی مکمل وضاحت دی گئی ہے۔
مزید برآں، فیکٹ چیک کی ٹیم نے خود بھی نیا 500 روپے کا نوٹ دیکھ کر اس کی تصدیق کی۔ جائزے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ نوٹ کی پشت پر وہی عبارت بدستور موجود ہے جسے سوشل میڈیا پر ہٹائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔
اس تفصیلی جانچ کے بعد نتیجہ واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والا یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’حصولِ رزقِ حلال عبادت ہے‘‘ کی عبارت اب بھی تمام پاکستانی کرنسی نوٹوں کا حصہ ہے اور اسے ہٹانے کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان حلال عبادت ہے کرنسی نوٹوں
پڑھیں:
ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
کراچی:صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا افضل پیچوہو نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے۔
جناح اسپتال کراچی میں چوتھی انٹرنیشنل فیملی پلاننگ سمٹ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی کی بروقت تشخیص کیلئےاسکریننگ کا عمل مزید تیز کردیا گیا ہے، زیادہ سے زیادہ اسکریننگ سے ایچ آئی وی پر جلد قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں سہولیات کی بہتری کے لیے حکومت سندھ بھرپور کوششیں کر رہی ہے، ہمیں معلوم ہے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے، صحت کے شعبے میں حال ہی میں نئی بھرتیاں کی گئی ہیں، مزید بھرتیوں کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں، اسپتالوں میں سہولیات کی بہتری کے لیے مزید بھرتیوں سے مدد ملے گی۔
صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ اسپتالوں میں میڈیا کی موجودگی کی اجازت نہیں ہوتی، میڈیا سے بات کرنے کے خواہشمند ڈاکٹر اور دیگر افراد اسپتال سے باہر آکر موقف دیں، تمام ڈاکٹرز کو میڈیا سے بات کرنے اور اپنا مؤقف دینے کی اجازت ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا اسپتال میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرے، میڈیا کی نشاندہی سے ہی ہمیں مدد ملتی ہے، جناح اسپتال میں ڈاکٹر خالد شیر کو کہہ دیا ہے اب سے وہ میڈیا کو موقف دیں گے۔