بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کیخلاف بڑا آپریشن، 188 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
ابوظہبی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 ستمبر 2025ء ) بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے خلاف متحدہ عرب امارات کی قیادت میں بڑا عالمی کریک ڈاؤن کیا گیا جس کے نتیجے میں 188 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ خلیجی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارت داخلہ نے 14 ممالک میں بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے خلاف ایک بین الاقوامی آپریشن کی قیادت کی جس کے نتیجے میں 188 ملزمان گرفتار ہوئے، اس مقصد کے لیے متحدہ عرب امارات نے روس، انڈونیشیا، بیلاروس، سربیا، کولمبیا، تھائی لینڈ، نیپال، پیرو، برازیل، فلپائن، کرغزستان، ایکواڈور، مالدیپ اور ازبکستان میں مربوط بین الاقوامی آپریشن کی قیادت کی۔
بتایا گیا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے جرائم کا مقابلہ کرنا تھا، جس کے اہم نتائج برآمد ہوئے، اس کے نتیجے میں دنیا بھر کے مختلف ممالک سے 165 بچوں کو بچاتے ہوئے 188 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، اور حکام نے 28 مجرمانہ نیٹ ورکس کو ختم کردیا۔(جاری ہے)
اماراتی وزیر داخلہ سیف بن زید آل نہیان نے بتایا کہ اس آپریشن کے نتیجے میں ان جرائم میں استعمال ہونے والے متعدد الیکٹرانک اکاؤنٹس میں خلل پڑا اور مختلف براعظموں میں الیکٹرانک مانیٹرنگ کی تشکیل ہوئی، مزید برآں اس کریک ڈاؤن نے عالمی تعاون کو بڑھانے کے لیے پولیس ایجنسیوں کے درمیان مہارت کے تبادلے میں سہولت فراہم کی، دنیا بھر میں بچوں کی حفاظت کے لیے اپنے تمام شراکت داروں کے انسانی ہمدردی کے عزم اور کمیونٹی کی سلامتی کو مضبوط بنانے والی مشترکہ کوششوں کے لیے ان کی لگن کے لیے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے نتیجے میں کے لیے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔