بلدیاتی نظام بنیادی مسائل کے حل کاذریعہ ہے،پروفیسرمحبوب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فیصل آباد(وقائع نگارخصوصی)جماعت اسلامی کے ضلعی امیرپروفیسرمحبوب الزماںبٹ نے کہاہے کہ بلدیاتی نظام بنیادی مسائل کے حل کا ذریعہ ہے مگر پنجاب میں گزشتہ 10 برس سے بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے۔اختیارات اور مراعات پر قبضے کیلئے پنجاب کو بلدیاتی نظام سے محروم رکھا گیا ہے۔ جماعت اسلامی عوامی کمیٹیوں کے ذریعے بلدیاتی نظام کی کمی کو پورا کرے گی ۔سرکاری محکموں میں عام آدمی کے جائز مسائل کی شنوائی کو یقینی بنایا جائے گا۔عوامی کمیٹیاں ہرمحلے، گلی، تھانہ، کچہری، نوجوانوں اور بے روزگار افراد کے مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں گی۔ المرکزالاسلامی چنیوٹ بازارمیں زونل امراء و جنرل سیکرٹریز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ پاکستان کی سیاست اور ریاست کے نظام کو بحرانوں سے نجات کیلئے عوامی سطح پر بڑی تحریک اور عوامی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ملک بھر میںنئے شامل ہونے والے افراد پر مشتمل عوامی کمیٹیاںقائم کی جائیں گی ۔عوامی کمیٹیوں کے ذریعے عوامی مسائل کے حل کیلئے گراس رُوٹ لیول سے ملک گیر منظم آواز بلند کی جائے گی،ممبرزعوامی کمیٹیاں مقامی مسائل کا حل عوام کے دروازے پر مہیا کریں گی۔ حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں عوامی حقوقِ کی تحریک آگے بڑھے گی۔انہوںنے کہاکہ جماعت اسلامی پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جو موروثی سیاست، کرپشن اور ظلم کے نظام کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہے۔مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ رکھی ہے،پیٹر ول ڈالوانے پر لیوی ٹیکس کے ناکردہ گناہ کا جرمانہ ادا کرتے ہیں، عوام کا کتنا خون نچوڑا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلدیاتی نظام
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔