Jasarat News:
2026-07-24@08:12:37 GMT

بلدیاتی نظام بنیادی مسائل کے حل کاذریعہ ہے،پروفیسرمحبوب

اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

فیصل آباد(وقائع نگارخصوصی)جماعت اسلامی کے ضلعی امیرپروفیسرمحبوب الزماںبٹ نے کہاہے کہ بلدیاتی نظام بنیادی مسائل کے حل کا ذریعہ ہے مگر پنجاب میں گزشتہ 10 برس سے بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے۔اختیارات اور مراعات پر قبضے کیلئے پنجاب کو بلدیاتی نظام سے محروم رکھا گیا ہے۔ جماعت اسلامی عوامی کمیٹیوں کے ذریعے بلدیاتی نظام کی کمی کو پورا کرے گی ۔سرکاری محکموں میں عام آدمی کے جائز مسائل کی شنوائی کو یقینی بنایا جائے گا۔عوامی کمیٹیاں ہرمحلے، گلی، تھانہ، کچہری، نوجوانوں اور بے روزگار افراد کے مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں گی۔ المرکزالاسلامی چنیوٹ بازارمیں زونل امراء و جنرل سیکرٹریز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ پاکستان کی سیاست اور ریاست کے نظام کو بحرانوں سے نجات کیلئے عوامی سطح پر بڑی تحریک اور عوامی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ملک بھر میںنئے شامل ہونے والے افراد پر مشتمل عوامی کمیٹیاںقائم کی جائیں گی ۔عوامی کمیٹیوں کے ذریعے عوامی مسائل کے حل کیلئے گراس رُوٹ لیول سے ملک گیر منظم آواز بلند کی جائے گی،ممبرزعوامی کمیٹیاں مقامی مسائل کا حل عوام کے دروازے پر مہیا کریں گی۔ حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں عوامی حقوقِ کی تحریک آگے بڑھے گی۔انہوںنے کہاکہ جماعت اسلامی پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جو موروثی سیاست، کرپشن اور ظلم کے نظام کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہے۔مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ رکھی ہے،پیٹر ول ڈالوانے پر لیوی ٹیکس کے ناکردہ گناہ کا جرمانہ ادا کرتے ہیں، عوام کا کتنا خون نچوڑا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بلدیاتی نظام

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن