Express News:
2026-06-03@08:08:43 GMT

شکیل صدیقی نے ’بگ باس‘ کی پرکشش پیشکش کیوں ٹھکرائی؟

اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT

پاکستان کے معروف کامیڈین اور اداکار شکیل صدیقی نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی ریئلٹی شو ’بگ باس‘ کی جانب سے دی جانے والی پرکشش پیشکش کے باوجود انہوں نے اس شو کا حصہ بننے سے انکار کردیا، اور اس کی اصل وجہ بھی سامنے لے آئے۔

حال ہی میں شکیل صدیقی نے اداکار احمد علی بٹ کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے فنی سفر اور مختلف موضوعات پر کھل کر گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے بتایا کہ انہیں بارہا پاکستانی ریئلٹی شو ’تماشا‘ میں شرکت کی دعوت دی گئی، مگر انہوں نے ہمیشہ انکار کیا۔ ان کے مطابق اگر وہ اس شو کا حصہ بنتے تو وہ چاہتے کہ دوسرے شرکا بھی نامور فنکار ہوں، نہ کہ صرف سوشل میڈیا ٹک ٹاکرز۔

گفتگو کے دوران انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں بھارتی ریئلٹی شو ’بگ باس‘ میں بھی کئی بار شرکت کی آفر ہوئی۔ بگ باس انتظامیہ نے انہیں مکمل آزادی دینے کا وعدہ کیا تھا کہ وہ شو کے اندر اپنی مرضی سے ہر طرح کا کام کرسکتے ہیں اور اپنی پسند کے مطابق کھانے پینے کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔ حتیٰ کہ انتظامیہ ان سے ملاقات کے لیے دبئی تک پہنچ گئی تھی۔ اس کے باوجود شکیل صدیقی نے اس آفر کو قبول نہیں کیا۔

انہوں نے اس فیصلے کی اصل وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اس شو میں شریک ہوتے تو وہاں وہ اکیلے پاکستانی ہوتے جبکہ باقی سب بھارتی، جس سے تنازع یا جھگڑے کا خدشہ تھا۔ شکیل صدیقی نے مزید کہا کہ جب انہوں نے یہ بات انتظامیہ کو بتائی تو ان کا جواب تھا کہ بگ باس تو یہی چاہتا ہے تاکہ تنازع پیدا ہو اور شو کی ریٹنگ بڑھے۔

اداکار کے مطابق بگ باس کی ٹیم نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ پہلے دو ماہ تک کوئی ان کو ہاتھ بھی نہیں لگائے گا اور انہیں بھاری معاوضہ بھی دیا جائے گا۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے یہ پیشکش مسترد کردی کیونکہ ان کے خیال میں تنازعہ پیدا ہونے کی صورت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی تھی۔

شکیل صدیقی کا کہنا تھا کہ وہ اس طرح کی شہرت حاصل کرنے کے بجائے اپنے فن کے ذریعے پہچانے جانا پسند کرتے ہیں اور یہی ان کے انکار کی اصل وجہ تھی۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شکیل صدیقی نے انہوں نے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا