data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250922-2-10
سجاول(نمائندہ جسارت) ترجمان حکومتِ سندھ و ایم پی اے ہیر اسماعیل سوہو اور ایم پی اے ریحانہ لغاری نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سجاول میں سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی جاری ویکسین مہم میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں بچیوں کو آگہی دیتے ہوئے کہا کہ یہ مہنگی ویکسین سندھ حکومت کی جانب سے مفت فراہم کی جا رہی ہے، جس کے کوئی نقصانات یا سائیڈ افیکٹس نہیں ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ کسی بھی افواہ پر کان نہ دھریں اور اپنی بیٹیوں کو مستقبل میں کینسر سے بچانے کے لیے ضرور یہ ویکسین لگوائیں۔ انہوں نے کہا کہ سروائیکل کینسر دنیا کی عام بیماریوں میں سے ایک ہے، جبکہ پاکستان میں خواتین میں ہونے والے کینسرز میں یہ تیسرے نمبر پر ہے۔ رپورٹس کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً 3,200 خواتین اس بیماری کے باعث جان کی بازی ہار جاتی ہیں، حالانکہ اس سے بچاؤ کے لیے ویکسین موجود ہے۔ انہوں نے آگاہی دیتے ہوئے بتایا کہ عالمی ادار? صحت (WHO) کے مطابق 9 سے 14 سال کی ہر لڑکی کو HPV ویکسین لگنی چاہیے تاکہ وہ سروائیکل کینسر سے محفوظ رہ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ویکسین دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول کا حصہ ہے۔ پاکستان میں بھی سندھ حکومت کی جانب سے 15 ستمبر سے 27 ستمبر 2025 تک 13 روزہ مہم شروع کی گئی ہے، جس کے تحت اسکولوں اور صحت مراکز میں بچیوں کو یہ ویکسین مفت فراہم کی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کینسر سے

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد