Express News:
2026-06-03@06:59:56 GMT

مون سون کے آخری اسپیل سے نگر پار رن آف کچھ میں زندگی لوٹ آئی

اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT

تھرپارکر:

رواں سال سندھ کے علاقے نگر پارکر میں مون سون کا آخری اسپیل اچھا ہونے کے نتیجے میں "رن آف کچھ" میں زندگی واپس لوٹ آئی۔

ڈپٹی کنزرویٹر وائلڈ لائف تھر ریجن میر اعجاز تالپور نے اس حوالے سے بتایا کہ توقع کر رہے ہیں کہ رن آف کچھ کی برسوں سے گم شدہ بہار لوٹ آئے گی جس کے ماحولیاتی اعتبار سے اچھے نتائج ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ بارشوں کی وجہ سے انڈس فلائی وے کے مسافر پرندوں کے لیے آنے والا موسم اچھا ثابت ہوگا،  زیر زمین میٹھے پانی کے ذخائر میں قدرے بہتری آئے گی اور زمینوں پر نمکیات کا حملہ پسپائی اختیار کرے گا۔

ضلع تھرپارکر اور بدین کی حدود میں موجود "رن آف کچھ وائلڈ لائف سینکچوری" عالمی اہمیت کی حامل 'رامسر سائیٹس' کی لسٹ میں شامل ہے، صوبہ سندھ میں رن آف کچھ کا موجود حصہ دریائے سندھ کے بدین اور تھرپارکر کے ڈیلٹائی علاقوں میں پھیلا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحرائے تھر اور کارونجھر میں ہونے والی مون سون برساتوں کے پانی کے بہاؤ کا رخ بھی رن آف کچھ کے نمکیلے میدانوں کی طرف ہوتا ہے، دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں کمی کے باعث پچھلے کئی برسوں سے "رن آف کچھ" کو میٹھا پانی دینے والی کریکس مطلوبہ ماحولیاتی رسد پوری کرنے سے قاصر تھیں۔

ڈپٹی کنزرویٹر وائلڈ لائف تھر ریجن نے کہا کہ رن آف کچھ جو نمکیات کے بڑے ذخیرہ کے طور مشہور تھا مزید علاقوں میں نمک کے پھیلاؤ کا سبب بن رہا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رن آف کچھ

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود