چین کی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ آلو کی نئی قسم بنانے کی کوشش کتنی کامیاب ہوئی؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
چین کے دارالحکومت بیجنگ کے نواح میں قائم ایک تحقیقی مرکز میں ماہرینِ حیاتیات نے آلو کی ایک ایسی قسم تیار کی ہے جو مستقبل کے بڑھتے درجہ حرارت کی پیشگوئیوں کے مطابق ماحول میں تیار کی گئی تاہم اس کا نتیجہ تشویشناک نکلا اور آلو عام سائز سے آدھے رہ گئے۔
تحقیق میں 7 آلو حاصل ہوئے جن میں سے ایک محض 136 گرام کا نکلا جو چین میں عام آلو کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: آلو کی ابتدا ٹماٹر سے ہوئی، نئی تحقیق میں آلو کے ارتقا سے متعلق حیران کن انکشافات
چین دنیا میں سب سے زیادہ آلو پیدا کرنے والا ملک ہے اور یہ فصل غذائی تحفظ کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے لیکن آلو زیادہ درجہ حرارت کے لیے نہایت حساس ہیں۔
انٹرنیشنل پوٹیٹو سینٹر بیجنگ کے محقق لی جی پنگ اور ان کی ٹیم نے 3 سالہ منصوبے کے تحت درجہ حرارت میں 3 ڈگری سیلسیس اضافے کی صورت میں آلو پر اثرات کا مطالعہ کیا۔ نتائج کے مطابق اگرچہ آلو کی بڑھوتری 10 دن پہلے شروع ہوئی لیکن پیداوار نصف سے زیادہ کم ہوگئی۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق موجودہ پالیسیوں کے تحت صدی کے اختتام تک درجہ حرارت 3.
یہ بھی پڑھیے: عالمی یوم ماحولیات: پلاسٹک آلودگی سے زمین، سمندر اور انسان سب خطرے میں
اندرونِ منگولیا میں بارشوں اور بیماریوں نے کاشتکاروں کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے جبکہ بیج پیدا کرنے والی کمپنیاں ایرونک (ہوا میں فصل اگانے والے) نظام اپنا رہی ہیں تاکہ زیادہ پیداوار اور بیماریوں سے مزاحم اقسام تیار کی جاسکیں۔
لی جی پنگ نے خبردار کیا کہ اگر ہم نے حل نہ نکالا تو کسانوں کی آمدنی کم ہوگی اور غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آلو چین درجہ حرارت فصل گرمی موسمیاتی تبدیلی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آلو چین موسمیاتی تبدیلی آلو کی
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔