پاکستان سے اب کوئی روایتی حریفانہ مقابلہ نہیں رہا، بھارتی کپتان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
بھارتی بلے باز سوریا کمار یادیو نے کہا ہے کہ اب بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے میچ کو روایتی "رائیولری" کہنا درست نہیں۔
ایشیا کپ سپر فور میں پاکستان کو شکست دینے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر دو ٹیمیں 15 سے 20 میچ کھیلیں اور اس دوران ریکارڈ تقریباً برابر ہو تو اسے حریفانہ مقابلہ کہا جا سکتا ہے لیکن اگر ایک ٹیم مسلسل جیت رہی ہو تو یہ رائیولری نہیں رہتی۔
انہوں نے کہا:"میرے خیال میں اگر اسکور 7-7 یا 8-7 ہو تو رائیولری کہی جا سکتی ہے، لیکن اگر حساب 13-0 یا 10-1 ہو تو پھر یہ رائیولری نہیں رہتی۔ ہم نے ان سے بہتر کرکٹ کھیلی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایشیا کپ کے سپر فور میچ میں بھارت نے پاکستان کو ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ میں مسلسل آٹھویں بار شکست دی ہے۔ پاکستان نے آخری بار بھارت کو ایشیا کپ 2022 میں دبئی میں ہرایا تھا۔
سوریا کمار نے میچ کے ٹرننگ پوائنٹ کے بارے میں کہا کہ پہلی اننگز میں 10 اوورز کے بعد جب پاکستان 91 رنز پر ایک آؤٹ تھا، تو اس کے بعد کھیل کا رخ بدل گیا۔ ڈرنکس بریک کے بعد بھارتی گیند بازوں نے لائن اور لینتھ تبدیل کی، زیادہ توانائی دکھائی اور پاکستانی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے نہ دیا۔ اگلے سات اوورز میں پاکستان صرف 38 رنز ہی بنا سکا جو اس ٹورنامنٹ کے دوران 10 سے 17 اوورز میں کسی بھی ٹیم کا سب سے کم اسکور ہے۔
انہوں نے خاص طور پر شیوَم دوبے کی تعریف کی جنہوں نے پہلی بار اپنے چار اوور مکمل کیے اور دو اہم وکٹیں حاصل کیں، جن میں صائم ایوب اور صاحبزادہ فرحان شامل تھے۔ دوبے کی شاندار بولنگ نے میچ کا نقشہ بدل دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔