پاکستان کے خلاف میچ کے بعد گوتم گمبھیر نے بھارتی ٹیم کو میدان میں واپس کیوں بلایا؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
ایشیا کپ 2025 کے سپر فور مرحلے میں پاکستان کے خلاف کامیابی کے بعد بھارتی ٹیم نے ایک بار پھر اپنے اخلاقی گراوٹ اور دیوالیہ پن کا عملی مظاہرہ کیا۔
میچ ختم ہونے کے بعد بھارتی ٹیم ایک بار پھر اسپورٹس مین اسپرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے پاکستانی کھلاڑیوں اور امپائرز سے ہاتھ ملائے بغیر ڈریسنگ روم میں چلی گئی۔
تاہم بھارتی ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے کھلاڑیوں کو ڈریسنگ روم سے باہر بلا کر پاکستانی کھلاڑیوں کے علاوہ صرف میچ آفیشلز سے ہاتھ ملانے کی ہدایت دی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل گروپ مرحلے کے میچ میں بھی بھارت اور پاکستان کے کپتانوں نے ٹاس کے وقت اور کھلاڑیوں نے میچ کے اختتام پر ہاتھ نہیں ملایا تھا۔
اس کے ساتھ ہی بھارتی کھلاڑیوں نے میچ کے بعد امپائروں اور آفیشلز سے بھی مصافحہ کرنے سے گریز کیا تھا لیکن سپر فور کے مقابلے میں گوتم گمبھیر نے ٹیم کو صرف آفیشلز سے ہاتھ ملانے پر آمادہ کیا۔
https://x.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔