روسی جارحیت پر پولینڈ اور بالٹک ممالک کا دفاع کریں گے، ٹرمپ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر روس نے مزید جارحیت کی تو وہ پولینڈ اور بالٹک ریاستوں کا بھرپور دفاع کریں گے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب روسی جنگی طیاروں نے ایسٹونیا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق، روس کے تین MiG-31 طیاروں نے خلیج فن لینڈ کے اوپر ایسٹونیا کی فضائی حدود میں دراندازی کی، جس پر نیٹو اور یورپی یونین نے شدید احتجاج کیا۔ دوسری جانب ماسکو نے خلاف ورزی سے انکار کیا ہے۔
اطالوی ایف-35 طیارے، جو نیٹو کے فضائی دفاعی مشن کا حصہ ہیں، سویڈن اور فن لینڈ کے طیاروں کے ساتھ مل کر روسی جہازوں کو روکنے کے لیے فضا میں بھیجے گئے۔ ایسٹونیا نے اس واقعے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "جی ہاں، میں پولینڈ اور بالٹک ممالک کا دفاع کروں گا۔ ہمیں یہ صورتحال بالکل پسند نہیں۔" ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب چند دن قبل روسی ڈرونز نے پولینڈ کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔