حالیہ پیشرفت میں برطانیہ فلسطین کو فلسطین اتھارٹی کے مشن دفتر کو سفارتخانے کا درجہ دینے والا پہلا ملک بن گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق لندن میں قائم فلسطینی مشن کے دفتر کو سفارت خانہ کا درجہ دیے جانے کے فوری بعد عمارت پر پرچم کشائی کی باوقار تقریب رکھی گئی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی سفیر حسام زملوط نے آج کے دن کو قومی جدوجہد کی تاریخ کا ایک سنگ میل قرار دیا۔

فلسطینی سفیر نے برطانوی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سفارت خانے کا درجہ دیا جانا نہ صرف تاریخی ناانصافیوں کی تلافی ہے بلکہ آزادی، وقار اور بنیادی انسانی حقوق پر مبنی مستقبل کے عزم کی تجدید بھی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ برطانوی حکومت کے اس جرات مندانہ اقدام کی اہمیت یوں بھی اور بڑھ گئی ہے کہ اس وقت فلسطینی عوام غزہ میں بمباری، بھوک، مغربی کنارے میں روزانہ کے جبر، زمینوں کی چھین جھپٹ اور ریاستی دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ فلسطین کے پرچم کے رنگ ہماری تاریخ اور ہماری قربانیوں کی داستان سناتے ہیں۔ سیاہ رنگ غم و الم، سفید رنگ امید، سبز رنگ سرزمینِ فلسطین اور سرخ رنگ ہمارے عوام کی قربانیوں کی علامت ہے۔

یاد رہے کہ آج اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں سعودی عرب اور فرانس کی میزبانی میں عالمی رہنماؤں کا اہم اجلاس جاری ہے جس میں متعدد مغربی ممالک فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرلیں گے۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کا درجہ

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان