بلاک بسٹر فلم ’دریشم‘ کے تیسرے سیکوئل کی شوٹنگ کا آغاز ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
ملیالم فلم انڈسٹری کے سپر اسٹار موہن لال کی بلاک بسٹر فلم دریشم کے سیکوئل 3 کی شوٹنگ کا آغاز ہوگیا۔
لیجنڈری اداکار موہن لال کو حال ہی میں بھارت کے سب سے بڑے اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اب ایک اور بڑی کامیابی کے سفر پر نکل پڑے ہیں۔ وہ ایک بار پھر اپنے مقبول ترین کردار جارج کُٹی کی واپسی کر رہے ہیں۔
ہدایتکار جیتو جوزف کی ہدایتکاری میں بننے والی دریشم 3 کی شوٹنگ کا باضابطہ آغاز ہوگیا ہے۔
دریشم: ایک سنسنی خیز آغاز
2013 میں ریلیز ہونے والی پہلی دریشم ملیالم سنیما کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوئی تھی۔ فلم کی کہانی ایک عام فیملی مین جارج کُٹی کے گرد گھومتی ہے جو کیبل آپریٹر ہے اور ہر وقت فلمیں دیکھتا رہتا ہے۔
اپنی بیٹی کے ایک حادثاتی قتل کو چھپانے کے لیے ناقابلِ یقین حد تک ذہانت سے پولیس کو چکمہ دیتا ہے۔ پولیس کو چکرا کر رکھ دینا، شواہد کو چھپانا اور نئی کہانی دکھانا۔ انہی فلموں سے سیکھا۔
یہ فلم نہ صرف ملیالم میں بلاک بسٹر بنی بلکہ اسے بھارتی سنیما کے بہترین کرائم تھرلرز میں شمار کیا جاتا ہے۔
دریشم 2: ایک کامیاب تسلسل
2021 میں ریلیز ہونے والی دریشم 2 نے بھی شائقین کو حیران کر دیا تھا۔ اس حصے میں کہانی وہیں سے آگے بڑھی جہاں پہلی فلم ختم ہوئی تھی۔
جیتو جوزف نے ایک بار پھر ایسا اسکرپٹ لکھا جس نے ناظرین کو آخر تک سسپنس میں رکھا۔ ناقدین نے اسے پہلی فلم جتنا ہی کامیاب قرار دیا، بلکہ کئی جگہوں پر اسے مزید پختہ اور متاثر کن قرار دیا گیا۔
دریشم 3: نئی توقعات
ہدایتکار جیتو جوزف نے بتایا کہ دریشم 3 کی اسکرپٹ مکمل ہو چکی ہے اور یہ پہلی دو فلموں سے بالکل منفرد ہوگی۔
ان کے مطابق: "دریشم 2 الگ انداز میں لکھی گئی تھی اور لوگوں نے اسے پسند کیا۔ اب تیسرا حصہ اس سے بھی زیادہ مختلف ہوگا۔"
انھوں نے موہن لال کے بارے میں کہا: "وہ پیدائشی اداکار ہیں۔ کسی بھی کردار میں ایسے ڈھل جاتے ہیں جیسے پانی کسی برتن میں۔ جارج کُٹی کی واپسی ایک بار پھر سب کی نظریں اپنی طرف مبذول کرے گی۔"
عالمی سطح پر کامیابی اور ہندی ریمیک
دریشم کی بے پناہ مقبولیت کے باعث اس کے کئی زبانوں میں ریمیک بنے
ہندی ورژن (2015) میں اجے دیوگن اور تبّو نے مرکزی کردار ادا کیا، جو شاندار کامیابی ثابت ہوئی۔
ہندی سیکوئل دریشم 2 (2022) نے بھی باکس آفس پر ریکارڈ توڑے۔
تیلگو ورژن (2014) میں وینکٹیش نے اداکاری کی۔
تمل ورژن (2015) میں کمل ہاسن نے مرکزی کردار نبھایا۔
اس کے علاوہ کنڑ اور سنہالی زبان میں بھی فلم بنائی گئی۔
ان سبھی ریمیک ورژنز نے شاندار بزنس کیا اور کہانی کی آفاقی اپیل نے ثابت کیا کہ خوف، خاندان اور بقا جیسے موضوعات زبان اور ثقافت سے بالاتر ہو کر ناظرین کو متاثر کرتے ہیں۔
جارج کُٹی کیوں دل جیت لیتا ہے؟
دریشم کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ اس کی کہانی ہے جو یہ سوال اٹھاتی ہے: "ایک عام شخص اپنے خاندان کو بچانے کے لیے کہاں تک جا سکتا ہے؟" یہی وہ عنصر ہے جس نے اسے عالمی سطح پر ناظرین کے دلوں تک پہنچایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جارج ک ٹی
پڑھیں:
بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے ہیڈکوارٹر میں اہلکار کی اندھا دھند فائرنگ، 2 اہلکار ہلاک، تیسرے کی حالت نازک
بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے سیکٹر ہیڈکوارٹر میں ایک اہلکار کی فائرنگ سے 2 اہلکار ہلاک جبکہ ایک شدید زخمی ہو گیا۔ واقعے کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ فائرنگ کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ واقعہ ضلع مالدہ کے 17 مائل سیکٹر ہیڈکوارٹر میں پیش آیا، جہاں بی ایس ایف کی 119ویں اور 71ویں بٹالین کے ہیڈکوارٹر قائم ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق 119ویں بٹالین سے تعلق رکھنے والے اہلکار شیوم مشرا نے آرام کرنے والے 71ویں بٹالین کے اہلکاروں پر اچانک اپنی سرکاری رائفل سے فائرنگ کر دی، جس سے کیمپ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
فائرنگ کے نتیجے میں 71ویں بٹالین کے 51 سالہ اجے کمار سنگھ، جو بھارتی ریاست بہار کے رہائشی تھے، اور 37 سالہ امباداس سریش درگو، جن کا تعلق مہاراشٹر سے تھا، موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ ان کے ساتھی وکاس ورما شدید زخمی ہو گئے۔ زخمی اہلکار کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
واقعے کے فوراً بعد بی ایس ایف کے اہلکاروں نے ملزم شیوم مشرا، جو ریاست چھتیس گڑھ کا رہائشی ہے، کو حراست میں لے لیا۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر فائرنگ کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ بی ایس ایف نے واقعے کی اندرونی انکوائری شروع کر دی ہے، جبکہ یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ آیا واقعہ کسی ذاتی تنازع، ذہنی دباؤ یا دیگر عوامل کا نتیجہ تھا۔
بھارتی سیکیورٹی فورسز میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ذہنی دباؤ، طویل ڈیوٹی اوقات، اندرونی تنازعات اور ساتھی اہلکاروں پر فائرنگ جیسے واقعات متعدد بار رپورٹ ہو چکے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے واقعات فورسز میں نفسیاتی دباؤ اور فلاحی نظام سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کرتے ہیں، جس کے باعث اہلکاروں کی ذہنی صحت اور پیشہ ورانہ معاونت کے نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں