برطانیہ کا دنیا کے صف اول کے ماہرین کیلیے ویزا فیس ختم کرنے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250923-01-10
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) فنانشل ٹائمز نے پیر کے روز رپورٹ کیا ہے کہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اس وقت ویزا فیس ختم کرنے کی تجاویز پر غور کر رہے ہیں تاکہ دنیا کے صف اول کے ماہرین کو برطانیہ لایا جا سکے، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا نے امیگریشن پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے
مطابق کیئر اسٹارمر کی گلوبل ٹیلنٹ ٹاسک فورس ایسے خیالات پر کام کر رہی ہے، جن کے ذریعے دنیا کے بہترین سائنس دانوں، ماہرین تعلیم اور ڈیجیٹل ماہرین کو برطانیہ کی جانب راغب کیا جا سکے تاکہ معاشی ترقی کو فروغ دیا جائے۔ رپورٹ میں ان لوگوں کا حوالہ دیا گیا ہے جو ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ اور وزارت خزانہ کے مابین جاری ان مذاکرات سے باخبر ہیں۔ ایک عہدیدار نے اخبار کو بتایا کہ ویزا فیس کو صفر تک کم کرنے کا منصوبہ ان افراد کیلیے ہے جو دنیا کی 5 بہترین جامعات میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں یا جنہوں نے باوقار انعامات جیتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔