data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

راولپنڈی: جی ایچ کیو حملہ کیس میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکلا نے ویڈیو لنک کے ذریعے چلنے والے ٹرائل کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج کر دیا ہے۔

سلمان اکرم راجا ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت ملزم کو شفاف ٹرائل فراہم کرنا لازمی ہے جب کہ واٹس ایپ یا کمزور ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی اس اصول کی سراسر خلاف ورزی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق جیل ٹرائل کے دوران ملزم، وکلا اور خاندان سب موجود ہوتے ہیں اور براہِ راست مشاورت بھی ممکن ہوتی ہے، لیکن موجودہ طریقہ کار ملزم کے بنیادی حقوق سلب کر رہا ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ویڈیو لنک ٹرائل کو غیر قانونی و غیر آئینی قرار دیا جائے اور واٹس ایپ لنک کے تحت ہونے والی تمام کارروائی کو بھی کالعدم قرار دیا جائے۔

مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شفاف ٹرائل کے لیے عمران خان کو جیل سے عدالت پیش کرنے کا حکم دیا جائے، کیونکہ نصف کارروائی پہلے ہی جیل میں مکمل ہو چکی ہے اور بقیہ بھی اسی انداز میں جاری رہنی چاہیے۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ عدالت میں پیشی کے دوران آواز اور تصویر دونوں غیر واضح تھے، جس کے باعث موکل سے بات ممکن نہ ہو سکی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کے کمرے میں سب کے سامنے ہر بات نہیں کی جا سکتی اور اس عمل سے ملزم کی تیاری اور دفاع بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ٹرائل کھلی عدالت میں ہونا چاہیے جہاں ملزم گواہوں کو دیکھ سکے اور اپنے وکلا سے براہِ راست مشورہ کر سکے، لیکن موجودہ صورتحال میں عمران خان کو دانستہ طور پر کمرہ بند کرکے علیحدہ رکھا جا رہا ہے۔

سلمان اکرم راجا نے دو ٹوک کہا کہ موجودہ حالات میں وہ ٹرائل کا حصہ نہیں بنیں گے اور پہلے ہی عدالت میں اس کے خلاف درخواست جمع کر دی گئی ہے۔

ویب ڈیسک تنویر انجم.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ویڈیو لنک

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم