جی ایچ کیو حملہ کیس؛ ویڈیو لنک ٹرائل ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
راولپنڈی:
نو مئی، جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمران خان کے ویڈیو لنک ٹرائل کو ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج کر دیا گیا۔
سلمان اکرم راجا ایڈووکیٹ کی جانب سے ہوم ڈیپارٹمنٹ نوٹیفکیشن بھی ہائی کورٹ چیلنج کیا گیا۔
درخواست میں موقف اپنایا کہ آئین آرٹیکل 10 اے کے تحت شفاف ٹرائل لازم قرار دیتا ہے، واٹس ایپ اور ویڈیو لنک ٹرائل میں وکلاء اپنے کلائنٹ سے مشاورت نہیں کر سکتے۔
استدعا کی گئی کہ ویڈیو لنک ٹرائل غیر قانونی و غیر آئینی ہے لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جائے جبکہ واٹس اِیپ لنک سے جو بھی کارروائی بیان ریکارڈ ہوئے وہ بھی کالعدم قرار دیے جائیں۔
درخواست گزار کے مطابق جیل ٹرائل میں ملزم، وکلاء اور فیملی موجود ہوتی ہے جبکہ مشاورت بھی ہو سکتی ہے لیکن ویڈیو لنک اور واٹس اِیپ ٹرائل شفاف ٹرائل رولز کا قتل ہے۔ ارجنٹ نوعیت کے قانونی نکات ہیں، پٹیشن کی جلد سماعت کی جائے۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ شفاف ٹرائل کے لیے ملزم عمران خان کو جیل سے عدالت پیش کرنے کا حکم دیا جائے، نصف ٹرائل جیل سماعت میں ہوچکا بقیہ ٹرائل بھی اوپن جیل سماعت حکم دیا جائے۔
پٹیشن کل بدھ 25 ستمبر ابتدائی سماعت کے لیے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس وحید خان ڈویژن بینچ کے پاس مقرر ہونے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ویڈیو لنک ٹرائل
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔