ویب ڈیسک: عدالت نے پیشی پر غیر حاضر رہنے والے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا کے روبرو پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کیخلاف مختلف مواقع پر احتجاج کے مقدمات کی سماعت ہوئی۔

دورانِ سماعت پی ٹی آئی رہنما راجا بشارت، واثق قیوم و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔ بعد ازاں عدالت نے ملزمان کی حاضری کے بعد سماعت ملتوی کردی اور آج کی سماعت سے غیر حاضر ملزمان کو دوبارہ طلبی کے نوٹسز جاری کردیے۔

20 ستمبر سے نیا قانون نافذ، رجسٹرڈ سم اور موبائل کے بغیر اشٹام خریدنا ناممکن

عدالت نے مسلسل غیر حاضر رہنے والے ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

واضح رہے کہ عدالت نے  تھانہ کوہسار، رمنا ،نون، ترنول کے مقدمات کی سماعت 29 ستمبر تک ملتوی  کی ہے۔ اس کے علاوہ تھانہ رمنا کے مقدمہ نمبر 154 اور 155 کی سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی  کی گئی ہے جب کہ تھانہ کراچی کمپنی کے مقدمہ نمبر 1195 کی سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی  ہوئی ہے۔

پی ٹی آئی کارکنان کیخلاف 26نومبر احتجاج، 4 اکتوبر احتجاج ،فیض آباد احتجاج پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔

کترینہ کیف نے مداحوں کو جلد ہی ماں بننے کی خوشخبری سنادی

Ansa Awais Content Writer.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی عدالت نے کی سماعت

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار