رواں سال 1.5 ارب ڈالر کی گندم درآمد کرنا پڑے گی، رانا تنویر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
اسلام آباد:
حسین طارق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی غذائی تحفظ کا اجلاس منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی اجلاس میں چینی کی امپورٹ ایکسپورٹ اور قیمت کا معاملہ زیر بحث آیا۔
وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ رانا تنویر نے کہا کہ چینی پچھلے سال 7.6 ملین ٹن تھی اور 6.3 ملین ٹن ضرورت تھی، 13 لاکھ ٹن چینی سرپلس تھی جس کی وجہ سے انڈسٹری تباہ ہو رہی تھی، رواں سال ہمارا چینی کی پیداوار کا تخمینہ 7.
ممبر کمیٹی رانا حیات نے کہا کہ پیچھے جو ہو گیا سو ہو گیا آگے تو کسان کو کچھ تحفظ دے دیں۔ حکام وزارت غذائی تحفظ نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے گندم کی قمیت بڑھی تھی اب روک لی۔ رانا حیات نے کہا کہ آپ نے گندم کی قمیت روک لی چینی کی قیمت کیوں نہیں کنٹرول ہورہی؟ اب چینی درآمد کر کے کرشنگ سیزن میں کسان کا نقصان کریں گے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ گزشتہ سال گنے کی پیداوار ہدف سے ایک ملین ٹن کم رہی، ہم نے سرپلس چینی برآمد کی اجازت دی جس سے 45کروڑ ڈالر زرمبادلہ آیا، اب چینی ہم 15کروڑ ڈالر کی درآمد کر رہے ہیں، قیمت میں اضافے کی وجہ مافیا تھا، اس دفعہ گنے کی بمپر کراپ کی توقع ہے، سپورٹ پرائس نہ ہونے سے گندم کی پیدوار کم رہی ہے، اس سال گندم کی پیداوار مزید کم رہنے کی توقع ہے۔
انہوں ںے کہا کہ گندم کی پیداوار گرنے سے گندم باہر سے منگوانا پڑے گی، اگر پیداوار اس سال بھی 6 فیصد گری تو 1 رب 50 کروڑ ڈالر کی گندم درآمد کرنا پڑے گی، اتنی گندم امپورٹ کرنے سے قومی خزانے پر بوجھ پڑے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی پیداوار نے کہا کہ چینی کی ملین ٹن گندم کی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔