وزیراعظم یوتھ پروگرام اور پاشا میں اشتراک، روزگار کے دروازے کھل گئے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
وزیراعظم یوتھ پروگرام اور پاکستان آئی ٹی انڈسٹری ایسوسی ایشن (پاشا) کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوگئے ہیں۔ اس تقریب کا انعقاد وزیراعظم آفس میں کیا گیا. جسے پاکستان میں نوجوانوں اور کاروباری طبقے کے لئے ایک بڑی پیشرفت قرار دیا جارہا ہے۔ایم او یو کے تحت دونوں ادارے ملک بھر میں نوجوانوں کو ہنر مند بنانے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور ٹیکنالوجی کے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے مشترکہ اقدامات کریں گے۔ حکومتی حکام کے مطابق یہ شراکت داری ملک کی آئی ٹی انڈسٹری کو عالمی معیار تک لے جانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کی سمت میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس کے تحت تربیتی پروگرامز، انٹرن شپ کے مواقع، اور نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کے لئے تکنیکی و مالی رہنمائی فراہم کی جائے گی۔حکومتی عہدیداروں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس شراکت داری سے نہ صرف بیروزگاری میں کمی آئے گی بلکہ ملک میں آئی ٹی کے نئے رجحانات کو اپنانے میں بھی مدد ملے گی، جو عالمی سطح پر پاکستان کی شناخت کو مزید مستحکم کرے گا۔پاکستان کی نصف سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور انہیں صحیح سمت میں مواقع فراہم کرکے ملک کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے۔ یہ اقدام نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑنے اور ڈیجیٹل معیشت میں فعال کردار ادا کرنے کا بہترین ذریعہ بنے گا۔پاکستان میں آئی ٹی انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اس ایم او یو کے نتیجے میں نئی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کو عالمی منڈی تک رسائی کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔ہنر مند نوجوان نہ صرف ملکی معیشت کو مضبوط بنائیں گے.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔