جنرل اسمبلی اجلاس: پاکستان اور بھارت سمیت سات جنگیں رکوا چکا ہوں ،صدر ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کے دوران ایک حیران کن دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ سمیت دنیا میں سات جنگیں رکوا دی ہیں۔
اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھاکہ میں نے دنیا بھر میں سات جنگوں کو روکا — ان ممالک کے سربراہان سے براہِ راست بات کر کے۔ لیکن ان کوششوں میں اقوام متحدہ کا کوئی عملی کردار نہیں تھا۔”
اقوام متحدہ پر تنقید
صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا میں سوچتا ہوں کہ آخر اقوام متحدہ کو بنانے کا مقصد کیا تھا؟ یہ ادارہ اپنی صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہا۔
انہوں نے زور دیا کہ امریکہ عالمی امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، مگر ساتھ ہی یہ واضح کیا کہ انہیں اقوام متحدہ سے مطلوبہ تعاون اور فعالیت نہیں ملی۔
فلسطین اور غزہ کے حالات پر تبصرہ
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں فلسطین کے مسئلے کا بھی ذکر کیا اور کہا غزہ میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے۔ انسانی جانیں بچانا سب سے اہم ہے۔
امریکہ میں سنہری دور چل رہا ہے
اندرونِ ملک صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے اور ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے اپنی سابقہ حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ پچھلی انتظامیہ نے امریکہ کو شدید مسائل میں دھکیلا، مگر اب ہم ایک سنہری دور میں داخل ہو چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔