اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے اپنے پُراثر خطاب میں دنیا بھر میں جاری جنگوں، انسانی حقوق کی پامالیوں اور بڑھتے ہوئے عالمی بحرانوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

جنرل اسمبلی سے خطاب میں انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ اگر مؤثر عالمی ادارے نہ رہے تو دنیا انتشار اور تباہی کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
“غزہ میں ظلم، یوکرین میں جرائم – اب خاموشی خطرناک ہے”
انتونیو گوتریس نے دنیا کے دو سب سے سنگین تنازعات پر براہِ راست گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، فوری جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی ناگزیر ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے غزہ میں انسانی امداد کی فوری اور بلارکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانے کی اپیل کی۔
یوکرین پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں انسانیت کے خلاف جرائم کا سلسلہ جاری ہے، اور وہاں پائیدار جنگ بندی کی اشد ضرورت ہے۔”
اقوام متحدہ کا کردار — امید کی ایک کرن
اپنے خطاب کے آغاز میں سیکریٹری جنرل نے جنرل اسمبلی میں شریک عالمی رہنماؤں اور نمائندوں کو خوش آمدید کہا اور اقوام متحدہ کے امن قائم رکھنے میں کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا:
یہ ایوان بات چیت، مفاہمت اور امن کی تلاش کا ایک منفرد فورم ہے۔
ایک سنگین انتباہ:

گوتریس نے خبردار کیا کہ دنیا میں استثنیٰ کی پالیسی سے امن کے ستون گر رہے ہیں۔ اگر ہم نے مل کر مضبوط اور مؤثر عالمی ادارے قائم نہ کیے تو آنے والی دنیا افراتفری اور انارکی کی شکار ہو گی۔

سیکریٹری جنرل نے پرزور انداز میں کہاکہ دنیا میں قیامِ امن ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ امن صرف ایک نظریہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی وعدہ ہے — ایک ایسا وعدہ جو ہم ہر جنگ کے دہانے پر بھول جاتے ہیں۔”
انہوں نے عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، انسانی حقوق کے تحفظ، اور انصاف کے حصول کے لیے ٹھوس عملی اقدامات کریں۔
گوتریس نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہاکہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے سوال کریں — کیا ہم ایک بکھری ہوئی، خونی اور غیر محفوظ دنیا چاہتے ہیں؟ یا ایک ایسی دنیا جہاں قانون کی حکمرانی، انسانی ہمدردی اور امن غالب ہو؟

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ گوتریس نے نے عالمی

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن