data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری)آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) کے سینٹر فار انوویشن اِن میڈیکل ایجوکیشن (CIME) نے حال ہی میں سمپیکٹ 2025 کا انعقاد کِیا،ایک ایسی ہیلتھ کیئر سمیولیشن کانفرنس جو بیک وقت کراچی اور نیروبی میں 19 اور 20 ستمبر کو منعقد ہوئی۔

یہ ہائبرڈ ایونٹ پاکستان اور مشرقی افریقہ کے درمیان حقیقی وقت میں علم کے تبادلے اور جدت کے لیے ایک طاقتور پلیٹ فارم ثابت ہوا۔

اپنے اپنے خطوں میں سب سے بڑے سمیولیشن مراکز ہونے کے ناطے آغا خان یونیورسٹی کے CIME کی سہولیات سمیولیشن کے ذریعے طبی تعلیم کو تبدیل کرنے میں صفِ اول پر ہیں۔

اس سال کا موضوع “سمیولیشن میں پائیداری” تھا جس میں طویل المدتی اثرات کے لیے درکار مالی، عملی اور ماحولیاتی چیلنجز پر توجہ دی گئی۔ کانفرنس میں دو براعظموں سے بھرپور شرکت دیکھنے کو ملی جس میں صحت کے پیشہ ور افراد کے لیے 43 کیپیسٹی بلڈنگ ورکشاپس، 300 سے زیادہ تحقیقی خلاصے جمع کروائے گئے اور 100 زبانی اور پوسٹر پریزنٹیشنز پیش کی گئیں جنہوں نے تعلیمی اور تحقیقی منظرنامے کی جان دار تصویر پیش کی۔

ڈاکٹر فیصل اسماعیل، ڈائریکٹر، CIME کراچی نے کہا”سمیولیشن محض تدریسی طریقہ نہیں بلکہ صحت کی دیکھ بھال کے مستقبل میں ایک سرمایہ کاری ہے۔

کراچی اور نیروبی کے جڑنے سے سمپیکٹ ایک حقیقی عالمی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں ماہرین، طلبہ اور انڈسٹری کے رہنما اکٹھے ہوتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہماری جدتیں مؤثر اور پائیدار ہوں۔

کانفرنس کا نمایاں حصہ افتتاحی “سموینشن” شوکیس تھا جس میں 16 طلبہ کی قیادت میں تیار کیے گئے منصوبے پیش کیے گئے۔ اس اقدام نے اکیڈمیہ اور صنعت کے درمیان طلبہ کے تیار کردہ جدید ہیلتھ ٹیک حل دکھا کرخلا کو مؤثر طریقے سے پُر کیا ۔

اس ایونٹ میں 15 سے زیادہ معروف شراکت داروں پر مشتمل ایک انڈسٹری نمائش بھی شامل تھی جن میں گاو مارڈ، لیئرڈل اور 3B سائنٹفک شامل ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر استعمال ہونے والے اگلی نسل کے سمیولیٹرز اور ڈیجیٹل حل پیش کیے۔

پروگرام میں کلیدی خطابات، مہمان مقررین کے سیشنز اور پینل ڈسکشنز شامل تھے جن میں طبی تعلیم کو آگے بڑھانے میں سمیولیشن کے کردار اور اس کی اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے ساتھ ہم آہنگی پر بات چیت کی گئی۔

ڈاکٹر تانیا ببیلا، پروووسٹ، آغا خان یونیورسٹی نے کہا کہ یہ اجتماع محض اذہان کا ملاپ نہیں بلکہ ایک عملی عزم ہے۔ آئیے ہم مفروضوں کو چیلنج کریں، عملی اوزار بانٹیں اور یہ یقینی بنائیں کہ سمیولیشن مؤثر، لچکدار اور پائیداری کے عالمی تقاضے کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔

کلیدی مقرر پروفیسر شیرون ویلڈن، صدر منتخب، ایسوسی ایشن فار سمیولیٹڈ پریکٹس اِن ہیلتھ کیئر (ASPiH) نے کانفرنس کے موضوع پر وسیع تر نقطہ نظر پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ سمیولیشن میں پائیداری محض ہمارے ماحولیاتی اثر کو کم کرنے کے بارے میں نہیں ہےیہ اس بارے میں ہے کہ کس طرح سمیولیشن کو ایک محرک کے طور پر استعمال کیا جائے تاکہ صحت کی دیکھ بھال کو دوبارہ تصور کیا جا سکے ۔

کلینیکل دنیا کو کھولا جائے، متنوع آوازوں کو شامل کیا جائے اور ایسے نظام ڈیزائن کیے جائیں جو سماجی، اقتصادی اور ماحولیاتی طور پر مستقبل کے لیے پائیدار ہوں۔

اپنے منفرد دو شہروں پر مشتمل ہائبرڈ فارمیٹ، ریکارڈ ساز شرکت اور اکیڈمیہ اور صنعت کے درمیان مضبوط تعاون کے ساتھ، سمپیکٹ 2025 نے اپنی حیثیت کو مضبوط کیا کہ یہ ایشیا اور افریقہ میں پائیدار، سمیولیشن پر مبنی طبی تعلیم کو آگے بڑھانے کا بہترین پلیٹ فارم ہے۔

منیر عقیل انصاری.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: آغا خان یونیورسٹی کے لیے پیش کی

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا