data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیویارک:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ میں امن چاہتے ہیں، فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے لیکن حما س کی گنجائش نہیں۔اقوام متحدہ کے وجود کا مقصد کیا ہے، یہ ادارہ اپنی استعداد کام کے مطابق کام نہیں کررہا، سات ماہ میں سات جنگیں رکوائیں، غزہ سے یرغمالیوں کی رہائی چاہتے ہیں، روس یوکرین جنگ نہیں روکتا تو ٹیرف عائد کریں گے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چھ سال پہلے میں نے جنرل اسمبلی سے آخری خطاب کیا تھا، اس کے بعد سے دو براعظموں میں جنگوں نے امن و امان کو تاراج کردیا اور شدید بحرانوں نے جنم لیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل، گذشتہ انتظامیہ کے تحت امریکا شدید مشکلات کا شکار تھا، میرے عہدہ صدارت سنبھالنے کے صرف آٹھ ماہ بعد حالات تبدیل ہوگئے، اور اب امریکا دنیا کا پسندیدہ ترین ملک ہے۔

انہوں نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ سے ہمیں معاشی بربادی ورثے میں ملی، مگر آج امریکی معیشت دنیا کی مضبوط ترین معیشت اور ہماری فوج دنیا کی مضبوط ترین فوج ہے، اور یہ درحقیقت امریکا کا سنہرا دور ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میری لیڈرشپ میں امریکا میں مہنگائی کم ہوئی ہے اور افراط زر کو شکست دی جاچکی ہے، اسٹاک مارکیٹ تاریخی بلندیوں پر ہے اور کارکنان کی تنخواہیں 60سال میں سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکامیں غیرقانونی طور پر آنے والوں کے راستے بند ہوچکے ہیں اور ان کی آمد صفر ہوگئی ہے جبکہ بائیڈن کی پالیسیوں کی وجہ سے ماضی میں لاکھوں لوگ غیرقانونی طور پر امریکا آرہے تھے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ “ریاستہائے متحدہ امریکا کے لیے یہ ایک سنہری دور ہے، ہماری معیشت بہت طاقتور ہو چکی ہے،سرحدیں محفوظ ہیں اور ہم نے اقتدار سنبھالنے کے بعد 17 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔

صدر ٹرمپ نے عالمی امن کے لیے اپنی کوششوں کو تاریخی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دنیا بھر میں سات بڑی جنگیں رکوا کر لاکھوں زندگیاں بچائیں، ان میں سے دو جنگیں 31سال سے چلی آرہی تھیں، افسوس ہوا کہ اقوام متحدہ کے بجائے مجھے جنگیں بند کروانی پڑیں، میں نے پاک بھارت جنگ بند کروائی۔ ٹرمپ نے کہا کہ جنگیں ختم کرانے پر اقوام متحدہ سے ایک فون کال بھی نہیں آئی، اقوام متحدہ کھوکھلے الفاظ سے جنگیں نہیں رکواسکتی۔

امریکی صدر نے اقوام متحدہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے وجود کا کیا مقصد ہے، یہ ادارہ اپنے مقصد اور اپنی استعداد کار کے مطابق کام نہیں کررہا۔ ایران کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ بی ٹو طیاروں کے ذریعے ایرانی جوہری صلاحیت مکمل تباہ کردی تھی، ایران دہشت گردی کا سب سے بڑا حمایتی ہے، اور ایٹم بم جیسا مہلک ترین ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ہم کبھی ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے غزہ جنگ کے خاتمے کی بھی کوشش کررہا ہوں مگر حماس جنگ بندی کی کوششیں مسترد کرتی آئی ہے، حماس نے قابل عمل امن معاہدوں کو مسترد کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہم غزہ سے تمام 20 یرغمالیوں کی فوری رہائی چاہتے ہیں ، اگر غزہ میں امن چاہتے ہیں تو تمام 20 یرغمالیوں کی رہائی کی حمایت کریں۔ انہوں نے کہا کہ حماس کے مطالبات پورے کرنے کے بجائے یرغمالی رہا کرنے کامطالبہ کیا جائے۔

امریکی صدر نے کہا کہ مختلف ممالک کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا حماس کیلیے بڑا انعام ہوگا۔صدر ٹرمپ نے بتایا کہ “ہم مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ یرغمالی واپس آسکیں، یہ ایک مشکل عمل ہے لیکن ہم انسانی جانوں کی قدر کرتے ہیں اور ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔”ان کا مزید کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے لیکن حماس کی گنجائش نہیں۔

Aleem uddin.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست ٹرمپ نے کہا کہ اقوام متحدہ امریکی صدر چاہتے ہیں

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی