امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران لندن کے میئر صادق خان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ لندن کے میئر صادق خان شرعی قوانین نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ میں لندن کو دیکھتا ہوں جہاں ایک خوفناک میئر ہے۔ ایک بہت ہی خوفناک میئر۔ اور اب وہ شریعت نافذ کرنا چاہتا ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ اب برطانیہ ایک بالکل مختلف ملک لگتا ہے، آپ (میئر لندن) ایسا نہیں کر سکتے۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور لندن کے میئر صادق خان کے درمیان پرانی کشیدگی ہے۔ صادق خان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں اور اسلام مخالف بیانات کی مذمت کی تھی۔

جس کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ نے صادق خان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور لندن میں جرائم کی شرح کو ان کے خلاف استعمال کیا۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اس قسم کا بیان دینا عالمی رہنماؤں کو حیران کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا بھی کہنا ہے کہ امریکی صدر کا یہ بیان نہ صرف برطانیہ کے داخلی معاملات میں مداخلت ہے بلکہ مذہبی منافرت کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔

توقع ہے کہ برطانوی حکومت اور لندن کے میئر کے دفتر کی جانب سے اس پر سخت ردِعمل سامنے آئے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: لندن کے میئر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل