ٹک ٹاک تنازع: امریکا اور چین میں کشیدگی کے دوران ممکنہ ڈیل کی بازگشت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
کئی برسوں تک امریکا کی جانب سے ٹک ٹاک کی مجبوری فروخت کے مطالبے کو ’ڈاکوؤں کی منطق‘ قرار دینے والا چین اب اسی ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم کو امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ایک ممکنہ سودے کا حصہ بنانے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹک ٹاک معاہدہ، بائٹ ڈانس کو امریکی آپریشنز میں بورڈ سیٹ مل گئی
ٹک ٹاک کی چینی کمپنی بائٹ ڈانس (ByteDance) کے امریکی آپریشنز پر امریکا طویل عرصے سے اعتراض کرتا آیا ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ پلیٹ فارم بیجنگ کے اثر و رسوخ اور صارفین کی پرائیویسی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
تاہم اب چینی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بیجنگ ٹک ٹاک کو ایک ’سفارتی ہتھیار‘ کے طور پر دیکھ رہا ہے تاکہ اسے تجارتی پابندیوں، ٹیکنالوجی پر قدغن اور تائیوان کے معاملے پر چھوٹ مل سکے۔
سب سے بڑا سوال: الگورتھم کس کے پاس رہے گا؟
امریکا میں ٹک ٹاک کے تقریباً 170 ملین صارفین ہیں، اور اس کی غیر معمولی مقبولیت کا راز اس کا طاقتور الگورتھم ہے۔
2020 میں چین نے ایسے حساس ٹیکنالوجیز کے برآمد پر سخت قوانین نافذ کیے تھے، جن میں ٹک ٹاک کا الگورتھم بھی شامل ہے۔ اسی لیے اصل سوال یہ ہے کہ اگر کوئی ڈیل ہوتی ہے تو اس الگورتھم پر کنٹرول کس کے پاس ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹک ٹاک کا امریکی آپریشن امریکیوں کے کنٹرول میں ہوگا، وائٹ ہاؤس
چین نے اب تک کسی حتمی معاہدے کی تصدیق نہیں کی ہے، البتہ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فریقین ایک بنیادی فریم ورک پر متفق ہوئے ہیں۔
امریکا کا مؤقف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو دوبارہ وائٹ ہاؤس لوٹے ہیں، جلد از جلد اس معاملے کو نمٹانا چاہتے ہیں۔
ان کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات سے قبل ٹک ٹاک پر کسی معاہدے کو بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کے خواہاں ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیل کے تحت ٹیکساس کی کمپنی اوریکل (Oracle) ٹک ٹاک کے الگورتھم کو لائسنس کے ذریعے استعمال کرے گی اور امریکی ڈیٹا کی بنیاد پر اسے دوبارہ تربیت دے گی۔
اوریکل کے بانی لَیری ایلیسن کی اسرائیل نواز پالیسی بھی اس معاملے کو سیاسی رنگ دیتی ہے، کیونکہ کچھ ریپبلکن رہنماؤں نے 2023 سے ٹک ٹاک پر ’ pro-Palestinian ‘ مواد پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔
ماہرین کی رائے
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر چین الگورتھم پر نرمی دکھاتا ہے تو وہ بدلے میں امریکا سے بڑے معاشی یا تجارتی فائدے چاہے گا۔
ہانگ کانگ کے ایشیا گلوبل انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ہی وائی تانگ کے مطابق اگر امریکا کی اضافی 30 فیصد ٹیرف کم ہو جائے تو یہ چین کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹک ٹاک معاہدے کا اعلان، کونسی امریکی کمپنیاں ٹک ٹاک خرید سکتی ہیں؟
دوسری طرف کچھ ماہرین جیسے آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف سڈنی کی چن می زی سو سمجھتی ہیں کہ بائٹ ڈانس اپنی بنیادی ٹیکنالوجی کسی صورت ظاہر نہیں کرے گا، اور زیادہ سے زیادہ امریکا کو ’سطحی‘ ورژن فراہم کیا جا سکتا ہے۔
آئندہ کا منظرنامہ
فی الحال یہ واضح نہیں کہ معاہدہ کس صورت میں ہوگا اور الگورتھم پر اصل کنٹرول کس کے پاس رہے گا۔ لیکن مبصرین کے مطابق اگرچہ واشنگٹن اور بیجنگ کھلے عام سودے بازی کو تسلیم نہیں کریں گے، تاہم ممکن ہے کہ امریکا نئی تجارتی پابندیوں یا ٹیرف میں تاخیر کر کے نرم رویہ اپنائے۔
ٹک ٹاک کا مستقبل صرف ایک ایپ کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان وسیع تر معاشی اور سفارتی تعلقات کا حصہ بن چکا ہے۔
اگر یہ معاہدہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف ٹک ٹاک کے مستقبل کا تعین کرے گا بلکہ واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کا ایک ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الگورتھم امریکا اوریکل ٹک ٹاک چین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الگورتھم امریکا اوریکل ٹک ٹاک چین کے مطابق ٹک ٹاک کے لیے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔