کم جونگ اْن امریکا سے مذاکرات پر مشروط آمادہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250923-01-21
پیانگ یانگ (مانیٹرنگ ڈیسک) شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے امریکا سے مذاکرات کے لیے مشروط آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہوگا کیونکہ یہ ملکی دفاع کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا ایٹمی ہتھیار ختم کرنے کا مطالبہ ترک کر دے تو بات چیت ممکن ہے۔کم جونگ ان نے مزید کہا کہ ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ خوشگوار یادیں وابستہ ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں تعلقات بہتر بنانے کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔