کم جونگ اْن امریکا سے مذاکرات پر مشروط آمادہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250923-01-21
پیانگ یانگ (مانیٹرنگ ڈیسک) شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے امریکا سے مذاکرات کے لیے مشروط آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہوگا کیونکہ یہ ملکی دفاع کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا ایٹمی ہتھیار ختم کرنے کا مطالبہ ترک کر دے تو بات چیت ممکن ہے۔کم جونگ ان نے مزید کہا کہ ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ خوشگوار یادیں وابستہ ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں تعلقات بہتر بنانے کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔