کراچی:

سندھ کے 14 اضلاع کی 28 نشستوں پر ضمنی بلدیاتی انتخابات کل (24 ستمبر) ہوں گے، جس کے لیے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور مذکورہ اضلاع میں تعطیل کا بھی اعلان کردیا گیا ہے۔

سندھ میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 سے شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا اور اس دوران دو ممبر ڈسٹرکٹ کونسل، 6 چیئرمین، 7 وائس چیئرمین اور 13 جنرل ممبرز اور وارڈ ممبرز کا انتخاب ہوگا۔

صوبائی حکومت نے جن حلقوں میں انتخابات ہورہے وہاں کے اضلاع میں تعطیل کا بھی اعلان کیا ہے۔

کشمور کندھ کوٹ، قمبر شہداد کوٹ، گھوٹکی، سکھر، خیرپور، شہید بینظیر آباد، میرپورخاص، عمر کوٹ، تھرپارکر، مٹیاری، دادو، جامشورو، حیدرآباد، بدین اور ٹھٹہ میں 23 بلدیاتی نشستوں اور کراچی ڈویژن کے 3 اضلاع میں 5 بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوں گے۔

کراچی میں ضلع شرقی، غربی اور کیماڑی میں ایک چیئرمین، 3 وائس چیئرمین اور ایک جنرل ممبر کا انتخاب ہوگا۔

ضمنی انتخابات میں مجموعی طور پر دو ممبر ڈسٹرکٹ کونسل، 6 چیئرمین7 وائس چیئرمین اور 13 جنرل اور وارڈ ممبر کے لیے پولنگ ہوگی۔

کراچی ڈویژن کے 3 اضلاع کی 5 بلدیاتی نشستوں میں ضلع شرقی میں ٹی ایم سی سہراب گوٹھ کی یوسی 8 میں وائس چیئرمین، ضلع غربی ٹی ایم سی منگھو پیر یو سی 10 کے وائس چیئرمین، ضلع کیماڑی ٹی ایم سی بلدیہ کی یو سی 8 کے وائس چیئرمین جبکہ ٹی ایم سی اورنگی کی یو سی نمبر ایک کے چیئرمین اور یو سی 7 کے جنرل ممبر کی نشست پر انتخاب ہوگا۔

سندھ کے 14 اضلاع میں ضمنی انتخابی حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 43 ہزار187 ہے، جن میں ایک لاکھ 33 ہزار 38 مرد اور ایک لاکھ 10 ہزار 154 خواتین شامل ہیں۔

بلدیاتی ضمنی انتخابات کے لیے مجموعی طور پر 168 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 128 انتہائی حساس، 34 حساس اور 6 کو نارمل قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سندھ میں 67 بلدیاتی نشستوں پر انتخابات شیڈول تھےتاہم ان میں سے 33 بلدیاتی نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہوگئے، دو نشستوں پر کسی امیدوار نےکاغذات جمع نہیں کرائے جبکہ 3 نشستوں کے لیےجمع ہونے والےکاغذات نامزدگی مسترد قرار دیے گے تھے اور ایک امیدوار ریٹائر ہوگیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بلدیاتی نشستوں وائس چیئرمین چیئرمین اور نشستوں پر اضلاع میں ٹی ایم سی کے لیے

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کا پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس ہیڈکوارٹر کا دورہ، منشیات کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق
  • چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن