اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے نئے چیئرمین کا انتخاب عمل میں آیا۔ اجلاس کے دوران سینیٹر عمر فاروق نے سینیٹر محمد طلحہ محمود کو چیئرمین کمیٹی کے لیے نامزد کیا، جبکہ سینیٹر سرمد علی نے ان کی تائید کی۔ ایوان نے متفقہ طور پر سینیٹر طلحہ محمود کو چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاع منتخب کر لیا۔
چیئرمین کمیٹی منتخب ہونے کے بعد سینیٹر طلحہ محمود نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ قائمہ کمیٹی برائے دفاع ایوان بالا کی سب سے اہم کمیٹیوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام اراکین کمیٹی کے ساتھ مل کر دفاعی معاملات میں بہتری لانے اور قومی سلامتی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افواج نے ملک کے دفاع، سرحدوں کی حفاظت اور امن و امان کے قیام کے لیے جو قربانیاں دی ہیں وہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران افواج پاکستان نے جس جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا، اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی اور اس سے پاکستان کا وقار عالمی سطح پر بلند ہوا ہے۔
سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ملکی سلامتی ہم سب کے لیے سب سے مقدم ہے اور اس معاملے پر پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ فوج کا ساتھ دینا قومی مفاد کا تقاضا ہے۔
حالیہ سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ بھی پاکستان کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے جس پر فخر کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزارتِ دفاع کے ساتھ منسلک دیگر اداروں میں بھی بہتری کی گنجائش ہے اور کمیٹی ہر وقت ان اداروں میں اصلاحات اور بہتری کے لیے تیار ہے۔ ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
سینیٹر طلحہ محمود نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ 2006ء سے بطور سینیٹر مختلف اہم قائمہ کمیٹیوں، بشمول داخلہ، کابینہ سیکرٹریٹ اور خزانہ کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب کمیٹی برائے دفاع کی سربراہی ان کے لیے ایک اعزاز ہے اور وہ اپنی تمام صلاحیتیں ملک و قوم کی خدمت کے لیے بروئے کار لائیں گے۔
خطے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چترال دفاعی اعتبار سے انتہائی اہم علاقہ ہے مگر افسوس ہے کہ وہاں بنیادی انفراسٹرکچر نہ ہونے کے برابر ہے۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ چترال کے ایئرپورٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس کو فوری آپریشنل کیا جائے اور وہاں کی فلائٹس جو بند ہیں انہیں بھی فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ چترال کی ملک کے دیگر علاقوں کے ساتھ رابطہ کاری میں بہتری ائے ۔انہوں نے کہا کہ چترال جغرافیائی اور سٹریٹیجی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اور اس کا علاقہ چار مختلف جگہوں سے بارڈر سے جا کر ملتا ہے کمیٹی ترجیحی بنیادوں پر اس سلسلے میں اجلاس خصوصی طور پر بلائے گی اور متعلقہ اداروں سے اس پہ تفصیلی بریفنگ لی جائے گی۔
سڑکوں کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے، ان علاقوں میں ترقی، خوشحالی اور سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ اسی طرح بلوچستان کے پسماندہ علاقے بھی توجہ کے مستحق ہیں۔
اس موقع پر سینیٹر عمر فاروق نے چیئرمین کمیٹی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے حالیہ معاہدے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے اور وزارت دفاع سے اس حوالے سے جامع بریفنگ درکار ہے۔ سینیٹر سرمد علی اور سینیٹر عبدالقدوس بزنجو نے بھی سینیٹر طلحہ محمود کو چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور کمیٹی کے کام میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
یہ متفقہ انتخاب کمیٹی کے اراکین کے اعتماد اور اتحاد کا مظہر ہے، جس سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ قومی دفاع اور سلامتی کے معاملات میں مزید بہتری آئے گی۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹی برائے دفاع سینیٹر طلحہ محمود انہوں نے کہا کہ چیئرمین کمیٹی کرتے ہوئے کمیٹی کے کے ساتھ کے لیے ہے اور

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف