سندھ کے 14 اضلاع کی 28 نشستوں پر ضمنی بلدیاتی انتخابات کل ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
کراچی:
سندھ کے 14 اضلاع کی 28 نشستوں پر ضمنی بلدیاتی انتخابات کل ہوں گے، پولنگ صبح 8 سے شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق دو ممبر ڈسٹرکٹ کونسل، 6 چیئرمین، 7 وائس چیئرمین اور 13 جنرل ممبر، وارڈ ممبر کا انتخاب ہوگا، جن حلقوں میں انتخابات ہورہے وہاں تعطیل کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
کشمور، کندھ کوٹ، قمبر شہداد کوٹ، گھوٹکی سکھر، خیرپور، شہید بینظیر آباد، میرپور خاص، عمر کوٹ، تھرپارکر، مٹیاری، دادو، جامشورو، حیدرآباد، بدین اور ٹھٹھہ میں 23 بلدیاتی نشستوں جبکہ کراچی ڈویژن کے 3 اضلاع میں 5 بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوں گے۔
کراچی میں ضلع شرقی، غربی اور کیماڑی میں 1 چیئرمین، 3 وائس چیئرمین اور 1 جنرل ممبر کا انتخاب ہوگا۔ ضمنی انتخابات میں مجموعی طور پر 2 ممبر ڈسٹرکٹ کونسل، 6 چیئرمین7 وائس چیئرمین اور 13 جنرل،وارڈ ممبر کے لیے پولنگ ہوگی۔ ان میں کراچی ڈویژن کے 3 اضلاع کی 5 بلدیاتی نشستیں بھی شامل ہیں۔
ضلع شرقی میں ٹی ایم سی سہراب گوٹھ کی یوسی 8 میں وائس چیئرمین، ضلع غربی ٹی ایم سی منگھو پیر یو سی 10 کے وائس چیئرمین، ضلع کیماڑی ٹی ایم سی بلدیہ کی یو سی 8 کے وائس چیئرمین جبکہ ٹی ایم سی اورنگی کی یو سی نمبر 1 کے چیئرمین اور یو سی 7 کے جنرل ممبر کی نشست پر انتخاب ہوگا۔
سندھ کے 14 اضلاع میں ضمنی انتخابی حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 43 ہزار187 ہے، جن میں ایک لاکھ 33 ہزار 38 مرد اور ایک لاکھ 10 ہزار 154 خواتین شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 168 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 128 انتہائی حساس، 34 حساس اور 6 کو نارمل قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سندھ میں 67 بلدیاتی نشستوں پر انتخابات ہونا تھے جن میں سے 33 بلدیاتی نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہوگئے، 2 نشستوں پر کسی امیدوار نے کاغذات جمع نہیں کرائے جبکہ 3 نشستوں کے لیے جمع ہونے والے کاغذات نامزدگی مسترد قرار دیے گئے تھے، ایک امیدوار ریٹائر ہوگیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلدیاتی نشستوں وائس چیئرمین چیئرمین اور نشستوں پر ٹی ایم سی
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔