کراچی: شاہ فیصل کالونی میں کلینک پر ڈکیتی، ڈاکو موبائل فونز اور جیولری لے اڑے
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
اسکرین گریب
کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی نمبر 2 میں کلینک میں ڈکیتی کے دوران اسٹاف سے موبائل فون اور جیولری چھین لی گئی۔
پولیس کے مطابق 3 ملزمان نے کلینک کے اسٹاف سے رقم اور مریضوں سے موبائل فون چھینے۔
پولیس کا بتانا ہے کہ ملزمان نے کلینک میں موجود خاتون سے انگوٹھی بھی چھینی اور کیش کاؤنٹر پر کھڑے اسٹاف پر تشدد بھی کیا، ملزمان نے شناخت چھپانے کے لیے ماسک اور ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے۔
اہلخانہ کے مطابق 10 ملزمان نے ڈکیتی کے دوران تمام گھر والوں کو باندھ کر تشدد کیا۔
پولیس نے کلینک پر ہونے و الی ڈکیتی کا مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔
دوسری جانب محمود آباد نمبر 6 میں ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ سے باپ اور بیٹا زخمی ہوگئے جبکہ ملزمان فرار ہوگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔