مودی کی خارجہ پالیسی پر اپوزیشن کا کڑا وار، ’شائننگ انڈیا‘ عالمی تنہائی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
نئی دہلی: بھارتی اپوزیشن رہنماؤں نے وزیراعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت عالمی سطح پر تنہائی اور کمزوری کا شکار ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق مودی کی سفارتکاری ذاتی تعلقات، تصویری نمائش اور دکھاوے تک محدود رہی ہے، جس کا نقصان براہِ راست عوام اور ملک کے اسٹریٹجک مفادات کو ہو رہا ہے۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے سوال اٹھایا کہ "ہاؤڈی مودی اور نمستے ٹرمپ جیسی مہمات سے بھارت نے کیا حاصل کیا؟" انہوں نے کہا کہ ایچ ون بی ویزا پر پابندیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکا کو بھارت کی کوئی پرواہ نہیں۔
کانگریس رہنما اروند کیجریوال نے مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: "کچھ تو کریں، آخر 140 کروڑ عوام کا وزیر اعظم اتنا بے بس کیوں ہے؟"
ملیکارجن کھرگے نے انکشاف کیا کہ ایچ ون بی ویزا رکھنے والے متاثرین میں 70 فیصد ہندوستانی ہیں، جب کہ 50 فیصد ٹیرف سے 10 شعبوں میں 21 ہزار 700 ارب روپے کے نقصان کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چابہار بندرگاہ سے استثنیٰ ختم ہونے کے باعث بھی بھارت کو اسٹریٹجک نقصان ہوا ہے۔
اسی طرح کانگریس رہنما گورو گگوئی نے کہا کہ امریکا کے حالیہ فیصلے سے بھارت کے مستقبل کو نشانہ بنایا گیا ہے، لیکن مودی کی خاموشی اور دکھاوے کی سیاست بھارتی شہریوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ کپل سیبال نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "ایچ ون بی ویزا پر پابندی کے بعد ذاتی تعلق، گلے ملنا اور ’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘ کہاں گیا؟"
اپوزیشن رہنماؤں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی دکھاوے، جھوٹ اور تکبر پر مبنی ہے جو اب زمین بوس ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتہا پسند مودی اپنی سیاسی بقا کے لیے بھارت سمیت پورے خطے کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مودی کی
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔