ڈی ریگولیشن کے بعد پاکستان میں ادویات کی قلت ختم، تقریباً تمام دوائیں فارمیسیوں میں دستیاب
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
پاکستان میں مریضوں کو درپیش برسوں پرانے بحران کا خاتمہ ہو گیا ہے اور اب تقریباً تمام ادویات عام فارمیسیوں پر دستیاب ہیں۔ یہ پیش رفت حکومت کی جانب سے غیر ضروری ادویات کی قیمتوں کے ڈی ریگولیشن (آزادانہ تعین) کے فیصلے کے بعد ممکن ہوئی ہے۔ اس پالیسی نے نہ صرف شدید قلت ختم کی بلکہ بلیک مارکیٹ میں منافع خوروں کے راستے بھی بند کر دیے ہیں۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق حکام، فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے نمائندوں اور ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے مریضوں کی زندگی بچانے والی ادویات تک رسائی بحال ہوئی، جعلی دواؤں میں کمی آئی اور سپلائی چین پر اعتماد بحال ہوا۔
کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے چیئرمین توقیر الحق نے بتایا کہ ڈی ریگولیشن نے اس بحران کو پلٹ دیا جس نے مریضوں کو بنیادی اور اہم ادویات کے لیے ترسنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ لمبے عرصے تک انسولین، ٹی بی کی ادویات اور یہاں تک کہ عام درد کش دوائیں جیسے پیناڈول بھی فارمیسیوں سے غائب تھیں کیونکہ حکومت کی مقرر کردہ قیمت پیداواری لاگت سے کہیں کم تھی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی اور خام مال کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث پرانی سرکاری قیمتوں پر ادویات بنانا ناممکن ہو چکا تھا۔
توقیر الحق نے کہا کہ ’ایک گولی جس کی قیمت مریض کو 3 روپے پڑتی تھی، وہ لاگت میں تین روپے سے زیادہ کی تھی۔ ڈی ریگولیشن کے بعد وہی گولی 6 روپے میں دستیاب ہوئی اور مارکیٹ میں واپس آ گئی‘۔
ماہرین صحت نے بھی اس تبدیلی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے بلیک مارکیٹ میں استحصال کم ہوا اور معیاری ادویات کی فراہمی بہتر ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ یہ پالیسی صرف غیر ضروری ادویات پر لاگو ہے جبکہ 460 سے زائد ضروری ادویات اب بھی حکومت کی سخت قیمتوں کے کنٹرول میں ہیں تاکہ عام آدمی کی پہنچ میں رہ سکیں۔
چاروں صوبوں اور وفاقی علاقوں کے ڈرگ کنٹرول حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ اب تقریباً تمام ادویات مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قلت کے باعث جو جگہ جعلی دواؤں کو مل رہی تھی، وہ بھی اب بڑی حد تک ختم ہو گئی ہے۔
پی پی ایم اے اور فارما بیورو کے ایک مشترکہ سروے، جسے حالیہ آئی کیو وی آئی اے رپورٹ کی معاونت حاصل ہے، کے مطابق ڈي ریگولیشن کے بعد ٹاپ 100 برانڈز کی قیمتوں میں اوسطاً 16.
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق جون 2025 میں ادویات کے کنزیومر پرائس انڈیکس میں شہری علاقوں میں 13.05 فیصد اور دیہی علاقوں میں 15.3 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ کئی دیگر شعبوں میں مہنگائی سے کم ہے۔
حکام نے بتایا کہ وہ ادویات جو پہلے کمیاب تھیں، جیسے مرگی کی دوائیں، ذہنی امراض کی ادویات اور کچھ کینسر کے علاج، اب عام دستیاب ہیں۔ اسی طرح ادویات کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ آئی کیو وی آئی اے کے مطابق مارکیٹ والیوم گروتھ 2023 کے 0.8 فیصد کے مقابلے میں اس سال بڑھ کر 3.6 فیصد ہو گئی ہے۔
Post Views: 1
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈی ریگولیشن مارکیٹ میں ادویات کی کے مطابق کا کہنا کے بعد
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں